معروف وکیل ‘ سماجی رہنما عاصمہ جہانگیر انتقال کرگئیں -
The news is by your side.

Advertisement

معروف وکیل ‘ سماجی رہنما عاصمہ جہانگیر انتقال کرگئیں

 لاہور: معروف وکیل اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کرگئیں ‘ ان کی عمر 66 برس تھی۔ ان کی ساری زندگی جمہوریت کے فروغ اور اعلیٰ انسانی اقدار کے تحفظ کی جدوجہد کرتے گزری۔

تفصیلات کےمطابق عاصمہ جہانگیر کو دل کے دورے کے سبب لاہور کے اسپتال میں داخل کرایا گیا‘ تاہم وہ صحت یاب نہ ہوسکیں اور آج بروز اتوار اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

عاصمہ جہانگیر27 جنوری 1952ء کو لاہور میں پیدا ہوئی تھیں ‘ وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھیں ۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کی علمبردار اور سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی اپنی سماجی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔

وہ سپریم کورٹ بار کی سابق صدر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ دو کتابوں کی مصنف بھی ہیں۔انہیں 2010ءمیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ کئی انٹرنیشنل ایوارڈ بھی ملے۔

عاصمہ جہانگیر غیرمعمولی صلاحیتوں کی حامل شخصیت تھیں‘ وہ ابھی اکیس برس کی لاء اسٹوڈنٹ تھی کہ ان کے والد کو جنرل یحییٰ خان نے جیل میں ڈال دیا ۔ اپنے والد کی رہائی کے لیے پاکستان کے ہر بڑے وکیل کے پاس گئیں لیکن ، سب نےکیس لینے سے انکار کردیا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے والدکا کیس خود لڑیں گی ، عدالت نے اجازت دی اور اس بہادر بیٹی نے نہ صر ف اپنے والد کو رہا کرایا بلکہ ڈکٹیٹر شپ کو عدالت سے غیر آئینی قرار دلوا کر پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک عظیم کارنامہ انجام دیا اسی کارنامے کی وجہ سے ذوالفقارعلی بھٹو کو سول مارشل لاختم کرنا پڑا اور ملک کا آئین فوری طور پر تشکیل دیا گیا۔ ان کا یہ کیس پاکستان کی تاریخ میں عاصمہ جہانگیر کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

عاصمہ جہانگیر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے بانی اراکین میں شامل ہیں‘ اس کے علاوہ انہوں نے خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز پر مبنی قانون سازی کے خلاف مزاحمت کے لیے قائم کردہ ’ویمن ایکشن فورم‘ کی تشکیل میں بھی پیش پیش رہیں۔

انہیں طبعیت کی خرابی کی بنا پر لاہور کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا ‘ جہاں ڈاکٹروں نے تشخیص کی کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ طبی امداد فراہم کی گئی تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

تعزیت کا اظہار


چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

صدر مملکت ممنون حسین کا ممتاز قانون دان کے انتقال پر کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر نے قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔

 پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے ان کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر ایک فرد نہیں انسانی حقوق کے لیے موثر آواز تھیں۔

 پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے آج پاکستان ایک بہادی بیٹی اور بہادر ماں سے محروم ہوگیا‘انہوں نے عاصمہ جہانگیر کو جمہوریت کی شمع قرار دیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ان کے انتقالِ پرملال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پر نہ کیا جاسکے گا۔

 پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے ان کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

مریم نواز نے اپنے ٹویٹر پیغام میں انتہائی دکھ اور صدمے کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جمہوریت‘ انسانی حقوق اور جبری تسلط کے خلاف مزاحمت کی جنگ کی اہم سپاہی آج نہیں رہیں۔ یہ سب کے لیے عظیم نقصان ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں