The news is by your side.

Advertisement

اراکین سندھ اسمبلی کتنے اثاثوں کے مالک ہیں؟

کراچی: الیکشن کمیشن نے اراکین سندھ اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کردیں، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ 23 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد اور اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی 10 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے اراکین سندھ اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کردی گئیں۔

الیکشن کمیشن کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ 23 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، ان کے پاس ڈیڑھ کروڑ مالیت کی 2 گاڑیاں ہیں۔ مراد علی شاہ کو والدہ سے 100 تولہ سونا تحفہ ملا، ان کی بیٹی کے نام 3 کروڑ کے 2 پلاٹ ہیں۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی 10 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، سرج درانی کے پاس 6 کروڑ 16 لاکھ روپے نقد موجود ہیں جبکہ انہوں نے 15 لاکھ روپے کا اسلحہ بھی ظاہر کیا۔

رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور 39 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کی مالک ہیں، ان کے پاس 980 گرام کے زیورات اور کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 3 گاڑیاں ہیں۔

سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی 2 کروڑ 31 لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں، ان کے پاس 100 تولہ سونا بھی ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ ناصرحسین شاہ 13 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں اور ان کے پاس 477 تولے سونا موجود ہے۔

صوبائی وزیر سہیل انور سیال 9 کروڑ 28 لاکھ روپے کے مالک ہیں، فردوس شمیم نقوی 33 کروڑ 40 لاکھ روپے اور حلیم عادل شیخ 2 کروڑ سے زائد ااثاثوں کے مالک نکلے۔

سابق رکن اسمبلی شرجیل میمن کے پاس ملک اور بیرون ملک میں بے شمار جائیدادیں ہیں، شرجیل میمن کی ڈی ایچ اے کراچی میں 44 لاکھ کی پراپرٹی ہے، ان کی ڈی ایچ اے میں ہی 97 لاکھ کی ایک اور پراپرٹی، تھر پارکرمیں 1 کروڑ 50 لاکھ 80 ہزار کا گھر اور زرعی زمین اور دبئی میں 5 کروڑ روپے کے 2 فلیٹس ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق شرجیل میمن کی اہلیہ کا دبئی میں 9 کروڑ 89 لاکھ مالیت کا ولا ہے،ا دبئی آفس میں اہلیہ کے 50 فیصد شیئرز کی مالیت 2 کروڑ 10 لاکھ ہے۔

دونوں کے پاس 2 لینڈ کروزر اور 150 تولہ زیورات بھی ہیں، شرجیل میمن کے پاس 7 کروڑ 99 لاکھ 39ہزار 190 روپے اور اہلیہ کے پاس 14 کروڑ 93 لاکھ 4 ہزار 1 سو روپے ہیں۔

شرجیل میمن نے 3 بینکوں سے قرضہ بھی لے رکھا ہے، ان کے ذمے 2 کروڑ 71 لاکھ 58 ہزار 3 سو 73 روپے کے قرضے واجب الادا ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں