The news is by your side.

خاتون جج کو دھمکی دینے کا کیس: عمران‌ خان کی 11 بجے عدالت میں طلبی

اسلام آباد : انسداد دہشت گردی عدالت نے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 11 بجے طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کودھمکی دینے کے کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

کیس کی سماعت انسداد دہشتگری عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کر رہے ہیں، عمران خان کے وکیل بابر اعوان روسٹرم پر آئے اور سیکورٹی کی بنیاد پر عمران خان کی گاڑی احاطہ جوڈیشل کمپلیکس میں داخل کرنے کی استدعا کی۔

عدالت نے عمران خان کی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت دے دی، جج نے کہا کہ آپ پہلے کہتے ہم اجازت دے دیتے۔

بابر اعوان نے کہا کہ روز مختلف تنظیموں کی جانب سے تھرٹ ملتا ہے، جج نے استفسار کیا کہ ہمارے اپنے پراسیکیوٹر کدھر ہیں، پہلے بھی دو پراسیکیوٹر کو ڈی نوٹیفائی کیا جاچکا ہے ، آپ بہت جلدی ڈی نوٹیفائی کر دیتے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہیں؟ کیا عمران خان شامل تفتیش ہوئے،تفتیشی افسر نے بتایا کہ عمران خان شامل تفتیش نہیں ہوئے،3 مرتبہ نوٹس جاری کیے۔

جس پر بابر اعوان نے بتایا کہ عمران خان کا بیان جمع کروادیا گیا ہے، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا بیان کو تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے تو تفتیشی افسر نے بتایا کہ بیان کو تفتیش کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیان کو تفتیش کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا، اس سے تو آپ کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔

جج نے استفسار کیا جے آئی ٹی کی کیا صورتحال ہے، تفتیشی افسر نے کہا جے آئی ٹی تو بنی ہوئی ہے، وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے بھی ڈائریکشن دے رکھی ہے۔

جس پر جج نے ریمارکس دیئے یہ بھی دیکھ لیجئے گا مقدمہ کے اندراج کو کتنے دن ہوگئے، جے آئی ٹی کو بھی دیکھ لیجئے گا کتنے دن بعد بنی، تاخیر سے تو نہیں بنی۔

جج نے کہا کیا جے آئی ٹی کیوجہ سے 30 دنوں تک ضمانت زیرالتواء رکھیں گے ، عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی جے آئی ٹی کی تشکیل پر عدالت کی رہنمائی کریں۔

پراسیکیوٹر نے کہا ملزم آئیں اور تفتیش کو جوائن کریں ،جج نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا اب یہ آئیں اور جائیں یہ کدھر لکھا ہے۔

عدالت نے عمران خان کے وکیل بابر اعوان کو آج دلائل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا اس کیس کی وجہ سے دیگر کیسز زیرالتوا رکھنے پڑتے ہیں ، ملزم کو لے آئیں تاکہ دلائل مکمل ہو سکیں۔

جس پر بابر اعوان نے کہا کہ مجھے سیکورٹی خدشات ہیں، مجھے پولیس پر اعتماد نہیں پہلے ہی پاکستان کے وزرائےاعظم مارے جا چکے ہیں، ابھی تک پولیس کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔

بابر اعوان نے استدعا کی آپ یہاں پر کہیں عمران خان شامل تفتیش ہو جائیں گے، جس کے بعد عدالت نے عمران خان کو 11 بجے طلب کر لیا۔

اس موقع موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف خار دار تاریں لگا دی گئی ہیں۔

خیال رہے عمران خان کی عبوری ضمانت کی مدت آج ختم ہو رہی ہے، عدالت نےعمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں