The news is by your side.

Advertisement

مسلمان بزرگ پر تشدد کی ویڈیو شیئر کرنے والے بھارتی صحافیوں پر مقدمہ

بھارتی پولیس نے مسلمان بزرگ شہری پر تشدد کی خبریں ٹوئٹ کرنے والے صحافیوں پر مقدمہ کر ‏دیا۔

الجزیرہ کے مطابق غازی آباد پولیس نے مختلف اداروں سے وابستہ صحافیوں رانا ایوب، صباء نقوی ‏اور زبیر احمد کے خلاف ٹوئٹر پر واقعے کو شیئر کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف ایف آئی آر ‏درج کی ہے۔

پولیس نے ٹوئٹر سے بھی جواب طلب کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے اعلیٰ حکام سے کہا ‏ہے کہ وہ بتائیں کہ ویڈیو کو وائرل ہونے سے کیوں نہیں روکا گیا؟ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ‏نفرت اور دشمنی پر مبنی تھی۔

اس واقعے پر حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی کے تین ارکان جو مسلمان ہیں ان کے ٹویٹس پر بھی ‏مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اپنی رپورٹ میں پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ نقوی ، ایوب اور زبیر نے اپنے ٹویٹر پر اس ویڈیو کی ‏حقیقت کو جانچنے اور انکوائری کیے بغیر شیئر کیا تھا۔

بھارت کی صحافتی اور عالمی تنظیموں نے بھارتی پولیس کی جانب سے صحافیوں کے خلاف ‏مقدمات کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اترپردیش میں ہندوتوا کے نعرے نہ لگانے پر 72 سالہ مسلمان بزرگ پر وحشیانہ تشدد کیا گیا، ‏انتہا ‏پسندوں نے عبدالصمد کو جان سے مارنے کی بھی دھمکی دی

بزرگ شہری ہاتھ جوڑتے رہے لیکن ظالم ہندو انتہا پسندوں نے ایک نہ سنی۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان نے مسلمان بزرگ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی داڑھی بھی ‏کاٹ دی، متاثرہ بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ میں نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جارہا تھا کہ ایک رکشے والے نے ‏مجھے لفٹ کی پیشکش ‏کی جیسے ہی رکشے میں بیٹھا تو مزید دو افراد بھی مجھے اندر دھکا ‏دے کر اس میں سوار ہوگئے۔

بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھے جنگل میں لے جاکر ایک کمرے میں بند کردیا، موبائل ‏فون چھین کر چاقو سے ‏میری داڑھی کاٹ دی اور چاقو کی نوک پر ہندوتوا کے نعرے لگوائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں