The news is by your side.

Advertisement

آسٹریلیا پہلی بار ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بن گیا

نیوزی لینڈ کو باآسانی شکست دے کر آسٹریلیا پہلی بار ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بن گیا۔ فائنل میں آسٹریلوی بلے بازوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 173 رنز کا ہدف صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا.

نیوزی لینڈ کے لیے ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے کا خواب پورا نہ ہوسکا، مضبوط حریف آسٹریلیا نے اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے کیویز کو آسانی سے شکار کر لیا۔

Image

دبئی کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیصلہ کن معرکے میں آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیتا اور فیلڈنگ کو ترجیح دیتے ہوئے نیوزی لینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی تو نیوزی لینڈ کے بلے باز کریز پر آئے تو آسٹریلوی پیس اٹیک کو ناکام بنانے کے لیے ابتدا میں متحاط انداز اپنایا، 28 کے مجموعے پر پہلا نقصان اٹھانے کے بعد کپتان ولیمسن نے کمان سنبھالی اور بولرز کے سامنے ڈٹ گئے انہوں نے تیزی سے رنز میں اضافہ کرتے ہوئے بڑے ٹوٹل کی بنیاد رکھی۔

ولیمسن نے 48 گیندوں پر 85 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں 10 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے، مارٹن گپٹل نے 28 اور مچل نے 11 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں پر 172 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کے جوش ہیزل ووڈ نے3کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی بلے باز بلیک کیپس پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے، مچل مارش نے 77 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی انہوں نے 6 چوکے اور 4 چھکے لگائے، جارحانہ اوپنر ڈیوڈ وارنر نے 53 رنز کی باری کھیل کر جیت میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے 4 چوکے اور 3 چھکے لگائے۔

گلین میکسویل نے 18 گیندوں پر 28 رنز کی باری کھیلی اور ناٹ آؤٹ رہے، کپتان ایرون فنچ 5 رنز ہی بنا سکے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے کوئی بولر بھی خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا، ٹرینٹ بولٹ نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

آسٹریلوی کپتان نے کہا کہ وننگ کمبینیشن کو برقرار رکھتے ہوئے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی، زیمپا چھوٹے ‏فارمیٹ میں بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

کیوی کپتان کین ولیمسن نے کہا کہ ہم بھی ٹاس جیت کرپہلےفیلڈنگ ہی کرتے لیکن ہم نے پہلے بیٹنگ کر کے ‏بھی میچزجیتےہیں آج کےمیچ میں بھرپور کارکردگی دکھانےکی کوشش کریں گے۔

Image

دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح کا تاج سر پر سجانے کے لیے میدان میں اتریں گی،دونوں ‏ٹیموں کا اس سے قبل کبھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں آمنا سامنا نہیں ہوا۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نےایونٹ میں اب تک 1،1 میچ ہارا ہے ناک آؤٹ میچوں میں آسٹریلیا کا پلڑا بھاری16 بار ‏کیویز کو ہرا چکی ہے۔
ٹیسٹ چیمپئن شپ کے بعد بلیک کیپس ایک سال میں دوسری ٹرافی اٹھانےکیلئے بےقرار ہیں۔

آسٹریلیا کو فائنل کھیلنےکا تجربہ ہے دوہزار دس میں وہ فائنل پہلی بار فائنل میں پہنچے لیکن انگلینڈ ‏سےہارگئے۔

کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ فائنل میں بھی ٹاس اہم ہوگا، دوسری بیٹنگ والی ٹیم فیورٹ ہوگی۔

فائنل جیتنے والی ٹیم کو 16 لاکھ ڈالر انعامی رقم دی جائے گی جبکہ ٹورنامنٹ کی رنر اپ ٹیم کو 8 لاکھ ڈالرز ‏ملیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں