The news is by your side.

آسٹریلیا کی مستقل امیگریشن سے متعلق اچھی خبر آگئی

کینبرا: آسٹریلیا نے ورکرز اور ہنرمند افراد کی کمی کے باعث رواں مالی سال امیگریشن کوٹہ میں اضافہ کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مقامی حکومتوں، ٹریڈ یونین، کاروبار اور صنعتوں کے 140 نمائندوں کے دو روزہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیر داخلہ کلائر او نیل نے رواں مالی سال میں مستقل امیگریشن کی تعداد میں 35 ہزار اضافہ کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ 95 ہزار تک لے جانے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے بعد ہمیں ملک میں ہنرمند افراد اور لیبر کی کمی کا سامنا ہے، نرسنگ کے شعبے میں گزشتہ دو برسوں کے دوران اسٹاف مسلسل دو سے تین شفٹ میں کام کر رہے ہیں، ایئرپورٹس پر اسٹاف نہ ہونے کے باعث فلائٹس منسوخ کرنا پڑتی ہیں جبکہ پھل درختوں پر خراب ہو رہے ہیں کیونکہ اتارنے کے لیے افرادی قوت میسر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی ملک میں امیگریشن کھلنے کو تیار

وزیرداخلہ نے کہا ہماری ترجیح آسٹریلوی شہریوں کو ملازمتیں دینا ہیں، اور اسی وجہ سے سمٹ کا زیادہ تر حصہ تربیت اور خواتین اور دیگر پسماندہ گروپوں کو ٹریننگ دینے پر مرکوز رہا، لیکن کرونا کا اثر اتنا زیادہ ہے کہ یہ سب کرنے کے باوجود ہمیں ہزاروں ورکرز کی کمی کا سامنا ہوگا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کا امیگریشن پروگرام 70 سے زیادہ منفرد ویزا پروگراموں کے ساتھ بہت پیچیدہ ہے جس کی وجہ سے بہت سے ’بہترین اور شاندار دماغ‘ آسٹریلیا آنے کے بجائے کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا قومی مفاد میں اپنے امیگریشن پروگرام کی تعمیر نو کے لیے ایک پینل قائم کرے گا تاکہ امیگریشن قوانین کو آسان بنایا جاسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں