The news is by your side.

Advertisement

عدالت نے آسٹریلیا کے سب سے بڑے کسینو پر 3 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد

سڈنی : آسٹریلوی عدالت نے میلبرن میں واقع اسٹریلیا کے سب سے بڑے کسینو پر جوئے کی مشینوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے پر 3 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا.

تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی عدالت نے ملک کے سب سے بڑے جوئے خانے کو لوگوں کے جیتنے کے امکانات کم کرنے کے لیے مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا۔

ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ میلبرن میں واقع آسٹریلیا کے سب سے بڑے کراؤن کسینو کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑی سزا دی گئی ہے۔

اسٹریلوی حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ کسینو پر پہلے بھی کئی الزامات لگتے رہے ہیں, جرمانہ حالیہ دنوں درج ہونے والی شکایات کے بعد عائد کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا میں شراب اور جوئے کے ضابطہ اخلاق کے لیے بنائے گئے کمیشن(وی سی جی ایل آر) کے حکام نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ’کسینوں کے عملے نے جوئے کی 17 مسینوں میں پر ’سادہ بٹن‘ لگائے تھے۔ تاکہ صارفین صرف دو طریقوں سے کھیل سکیں، جس میں ان کے جیتنے کے امکانات کم تھے۔

وی سی جی ایل آر نے حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ’کمیشن کی جانب سے کراؤن کسینوں پر عائد کیا گیا سب سے بڑا جرمانہ ہے، جس سے مذکورہ معاملے پر حکام کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جوئے میں رقم ہارنے والے ممالک میں آسٹریلوی عوام دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ جو سب سے زیادہ فی کس کے حساب سے رقم ہار جاتے ہیں۔

کمشین کے حکام نے اعتراف کیا ہے کہ کسینو کے عملے نے جان بوجھ کر جوئے کے قوانین کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور کسینوں کے اس اقدام نے جوا کھیلنے والے افراد کی شرح میں بھی کئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے کراؤن کسینو پر جرمانہ عائد کرنے کے بعد دیگر کسینوں مالکان جوئے کی مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

اسٹریلوی حکام کا کہنا تھا کہ کراؤن کسینو کا عملہ پہلے کو الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا، تین ماہ کی تفتیش کے بعد کسینوں نے مسینوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا اعتراف کیا۔

ادارے نے تسلیم کیا ہے کہ کسینو کے اس اقدام سے جوا بازوں کے جیتنے کی شرح پر فرق نہیں پڑا اور نہ ہی کیسینو نے جان بوجھ کر قانون توڑنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس جرمانے سے آئندہ کسی کیسینو کو بغیر اجازت مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی جرات نہیں ہو گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں