The news is by your side.

Advertisement

‘شیریں مزاری کو اغوا کیا گیا ہے، عدلیہ سوموٹو لے’

پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ کیس کی رپورٹ سے شیریں مزاری کا اغوا ثابت ہوتا ہے، اغوا کے خلاف تو پرچہ اور اس پر سوموٹو ہونا چاہیے، عدلیہ فوری ایکشن لے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیس کی رپورٹ سے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا اغوا ثابت ہوتا ہے اور اس اغوا کے خلاف تو پرچہ بلکہ اس پر سوموٹو ہونا چاہیے، عدلیہ فوری نوٹس لے۔

پولیس کو کہتا ہوں کہ کسی کا ناجائز کام نہ کرنا، سڑک پر گھسیٹنا غیر قانونی طریقہ تھا، قانون کے تحت گرفتار کیا جائے تو گرفتاری پر کوئی اعتراض نہیں، پولیس ملزم کو حراست میں لے تو متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرنی ہوتی ہے، شیریں مزاری کے کیس میں ایسی کوئی رپورٹ موجود نہیں، انہیں سیدھا سیدھا اغوا کیا گیا، تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ عدلیہ فوری نوٹس لے اور تمام ریکارڈ کو اپنی تحویل میں لے تاکہ ردوبدل نہ کیا جاسکے۔

پی ٹی آئی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ انسداد کرپشن کا مقدمہ صرف سرکاری ملازم کے خلاف درج ہوسکتا ہے، گرفتاری سے پہلے چارج شیٹ پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، پولیس رولز کے مطابق ایک سے دوسرے صوبے میں جانے کی اجازت درکار ہوتی ہے، پولیس جہاں سے جاتی ہے وہاں رپورٹ لکھی جاتی ہے، پولیس رولز میں ان تمام باتوں کی پابندی ضروری ہے، ، ملزم کو گرفتاری کے بعد اسے چیک اپ کے لیے اسپتال لے جانا ضروری ہوتا ہے، پولیس فورس کو اسلام آباد میں آنے کے لیے اجازت ڈپٹی کمشنر دیتا ہے، ایس پی رینک سے اوپر کا افسر اجازت طلب کرتا ہے۔

 علاوہ ازیں بابر اعوان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ شرم وحیا سےعاری، شوباز ابن شوباز اور درباری، شیریں مزاری کو گرفتار کرکے ثابت کررہے ہیں کہ ان کےہاتھوں کوئی محفوظ نہیں۔

 

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو سرِعام اہلکاروں نے پیٹا اور گھسیٹا، کرائم منسٹر ماڈل ٹاؤن کا ماڈل اسلام آباد میں دہرانا چاہتا ہے، انارکی اور خانہ جنگی ان کا اصل ٹارگٹ ہے، یہ لوگ آزادی مارچ تو کیا اسکی ہوا کو بھی نہیں روک سکتے۔

بابر اعوان نے بتایا کہ پی ٹی آئی لیگل ایڈ کمیٹی بنائی ہے جس سے زیادتی کا شکارکوئی بھی پاکستانی رابطہ کرسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں