The news is by your side.

Advertisement

جام کمال نے اپنی مرضی سے استعفیٰ دیا تھا، کور کمیٹی نے اس کی توثیق کی: ظہور بلیدی

کوئٹہ: بلوچستان کی سیاسی صورت حال کی گرمی بڑھتی جا رہی ہے، آج اسلام آباد میں موجود کوئٹہ کا وفد واپس روانہ ہو گیا، وفد نے چیئرمین سینیٹ اور ایم این ایز سے اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، ناراض اراکین مائنس ون فارمولے پر ڈٹے رہے، اور جام کمال پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام بھی لگایا گیا۔

اسلام آباد سے روانہ ہوتے وقت بلوچستان عوامی پارٹی کے قائم مقام صدر سابق وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے جام کمال کے پارٹی سے استعفیٰ نہ دینے کے بیان پر کہا ہے کہ جام صاحب نے اپنی مرضی سے استعفیٰ دیا تھا، کور کمیٹی نے اس کی توثیق کی ہے، اور کمیٹی نے 10 دن انتظار کیا مگر انھوں نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔

12 اکتوبر کو ظہور بلیدی کے قائم مقام صدر کے اعلان کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا تھا کہ وہ پارٹی صدارت سے مستعفی نہیں ہوئے، انھوں نے گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر کے نام خط لکھ کر بلوچستان عوامی پارٹی کے قائم مقام صدر کی تعیناتی کی تردید کی۔

انھوں نے کمیشن کو لکھا کہ میں نے استعفیٰ نہیں دیا، پارٹی کے صدر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہا ہوں، قائم مقام صدر کا انتخاب یا اس کے لیے سفارش جنرل سیکریٹری کا اختیار نہیں۔

ناراض رکن ظہور بلیدی کو بی اے پی کا قائم مقام صدر بنا دیا گیا

آج ظہور بلیدی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جام کمال نے الیکشن کمیشن سے دوبارہ رابطہ کیا ہے، آئین کے مطابق 3 سال کی مدت پوری ہو چکی ہے، نومبر میں پارٹی کے نئے صدر کا انتخاب کریں گے، جام کمال پارٹی صدارت چاہتے ہیں تو دوبارہ الیکشن لڑیں۔

ظہور بلیدی نے کہا جام کمال کو کسی نے پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے کے لیے مجبور نہیں کیا تھا، انھوں نے خود استعفیٰ دیا تھا، وزارت اعلیٰ سے جام کمال کو موقع دیا کہ وہ خود مستعفی ہو جائیں، لیکن وہ تحریک عدم اعتماد کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں تو ان کا حق ہے، 14 ممبران نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے ہیں۔

بلوچستان کے 3 ناراض وزرا کے استعفے منظور

قبل ازیں، ظہور بلیدی، اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو، ترجمان بی اے پی سردار عبدالرحمان کھیتران اور ایم پی اے اکبر آسکانی اسلام آباد سے کوئٹہ روانہ ہوئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہور بلیدی کی زیر صدارت کل ناراض ارکان کا مشاورتی اجلاس ہوگا، جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر مشاورت ہوگی۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان عبدالرحمان کھیتران نے کوئٹہ روانگی سے قبل اسلام آباد ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 21 اکتوبر تک بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا، اور 25 اکتوبر تک بلوچستان کو ایک خوب صورت اور اچھی حکومت دیں گے۔

انھوں نے کہا نئے وزیر اعلیٰ کی گردن میں سریا نہیں ہوگا، ہر کسی کی رسائی ہوگی، نیا وزیر اعلیٰ بلوچستان عوامی ہوگا، دفتر کیا گھر کے دروازے بھی کھلے ہوں گے۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے اس موقع پر کہا ہم اسلام آباد گئے ہوئے تھے، چیئرمین سینیٹ، ایم این ایز سے مختلف ایشوز پر بات ہوئی، ہم نے 15 دن کی بجائے جام کمال کو ایک مہینہ دیا تھا، لیکن ایسا لگا جام کمال پارٹی کو یک جا کرنے میں سنجیدہ نہیں تھے، جب عدم اعتماد ہوگا تو پارٹی کو یک جا کریں گے۔

بزنجو نے کہا جام کمال میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جام کمال کا استعفیٰ دے کر واپس لینا زیب نہیں دیتا تھا، جام کمال کے قریبی افراد ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، پتا چلے گا کتنے لوگ وہاں سے یہاں آتے ہیں۔

واضح رہے کہ بی اے پی ترجمان نے گزشتہ روز جام کمال پر ہارس ٹریڈنگ کاالزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے مجھے میرے بیٹے کے ذریعےآفر بھیجی، میرے بیٹے کو من پسند وزارت اور دیگر پیش کش کی گئی،جام کمال میں اتنی جرت نہیں کہ مجھےآفر کرتے، ہم بے کار نہیں کہ جام کمال سے کچھ مانگیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں