The news is by your side.

بنگلہ دیش نے توانائی بحران کا حل نکال لیا

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی حکومت نے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے اسکول ہفتے میں دو روز کیلئے بند اور دفاتر کے اوقات کار کم کردیے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیشی حکومت نے روس یوکرین جنگ کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے وجہ سے گزشتہ ماہ اپنے تمام 10 ڈیزل پاور پلانٹس کو بند کر دیا تھا۔

بنگلہ دیش میں گزشتہ ماہ روزانہ دو گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا تھا، تاہم  ملک کے کئی حصوں میں اس سے زیادہ دیر تک بجلی غائب رہتی ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث مشکلات کا شکار بنگلادیش کی حکومت نے ملک میں مسئلے سے نمٹنے کا حل نکال لیا ہے، حکومت کی جانب سے ہفتے میں دو روز اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق آج سے شروع ہوگیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں اسکول عام طور پر ہفتے میں چھ دن کھلتے ہیں اور جمعہ کو بند رہتے ہیں لیکن وزارت تعلیم نے اعلان کیا کہ اب وہ ہفتہ کو بھی بند رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 24 اگست سے سرکاری اداروں اور بینکوں کے اوقات کار میں ایک ایک گھنٹہ کم کردیا ہے، کابینہ سیکرٹری انوار الاسلام نے کہا کہ دفاتر معمول کے مطابق صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کے بجائے صبح آٹھ سے دوپہر تین بجے تک کھلیں گے جبکہ بینک صبح دس بجے سے چھ بجے تک کے بجائے صبح نو سے چار بجے تک کھلے رہیں گے۔

اسلام نے کہا کہ نجی دفاتر اپنی ضروریات کے مطابق اپنے کھلنے کے اوقات مقرر کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کسی کے دباؤ میں نہیں آئیگا، حسینہ واجد کا دبنگ اعلان

خیال رہے کہ بنگلا دیش حالیہ ہفتوں میں اپنی کرنسی پر آنے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور اسی مقصد کے لیے بنگلادیش میں گزشتہ ماہ ایندھن کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا تھا۔

حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بنگلہ دیش میں میں اپوزیشن اور طلبا نے مظاہرے بھی کیے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں