پہاڑوں میں علم کی روشنی پھیلاتا استاد‘ اورمسجد اسکول -
The news is by your side.

Advertisement

پہاڑوں میں علم کی روشنی پھیلاتا استاد‘ اورمسجد اسکول

چترال: دشوار گزار علاقے چترال کی ایک وادی میں جہاں جدید دنیا کی کوئی سہولت میسر نہیں‘ ایک ایسا چراغ روشن ہے جو کہ اس وادی کے کمسن پھولوں کو علم کے نور سے منور کررہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چترال سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع برغوذی نامی وادی 700 افراد کی آبادی پر مشتمل ہے اوریہاں رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد 300ہے تاہم یہ علاقہ ابھی تک بجلی‘ پانی‘ تعلیم اورسڑک جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔

اندھیرے میں اجالے پھیلاتی مسجد اوراستاد


اس وادی میں حکومت کی طرف سے کئی سال قبل محض ایک پل تعمیر کیاگیا تھا جس کی حالت انتہائی خستہ ہے اور تعلیم کے نام پر محض ایک استاد یہاں مقرر کیا گیا ہے۔

مسجد میں قائم اس مکتب سکول میں تعینات استاد کسی بھی سرکاری عہدے پر فائز شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو کہ انتہائی قلیل تنخواہ میں کسی بھی قسم کی سہولیات کے بغیر اس گاؤں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سےآراستہ کرنے کے مشن میں مصروف ہے۔

مکتب اسکول میں کل 34 طالب علم زیرِ تعلیم ہیں جن میں بچے اوربچیاں دونوں شامل ہیں‘ اسکول میں تیسری جماعت تک کی تعلیم مہیا کی جارہی ہے جو جہالت اورپسماندگی کے اس اندھیرے میں ایک چراغ کی سی حیثیت رکھتی ہے۔

اسکول میں زیرِ تعلیم ایک معصوم بچی مسکان جو تیسری جماعت میں پڑتھی ہے کا کہنا ہے کہ میں رات کو اکثر یہ سوچتی ہوں کہ تیسری جماعت پاس کرنے کے بعد میں مزید تعلیم کیسے حاصل کرسکوں گی‘ کیونکہ ہمارے علاقے میں کوئی زنانہ سکول نہیں ہے۔

ایک اورپیاری سی بچی صائمہ کہتی ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو اس مسجد اسکول کی چھت پرانی اوربوسیدہ ہوجانے کے سبب ٹپکنے لگتی ہے اورکچے راستوں پرکیچڑ ہوجانے کے سبب ہم اسکول نہیں آپاتے ہیں۔

بجلی کا حصول آسان ہے مگر؟


وادی برغوذی میں کسی بھی قسم کی سہولیات میسر نہیں ہیں‘ ایک غیر سرکاری ادارے کی تعاون سے یہاں ایک پن چکی لگائی گئی تھی جو پورے علاقے کے لوگوں کا آٹا پیستی ہے۔

فیض احمد جو پن چکی چلاتا ہے‘ اس کا کہنا ہے کہ اگرحکومت میرے ساتھ تعاون کرے تو میں اس پن چکی اورپانی کے مدد سے بجلی گھر بھی بنا سکتا ہوں۔ پن چکی کے لئے درکار پانی کافی بلندی سے پائپ کے ذریعےلایا گیا ہے جوکہ ایک ٹربائن کو باآسانی سے چلا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وادی سیلاب میں ریش بجلی گھر تباہ ہوجانے کے بعد پچھلے دو سالوں سے بجلی جیسی بنیادی سہولت سے مکمل طور پر محروم ہے۔

علاقے کے لوگوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وادی برغوذی میں سڑک، سکول، کالج اور اسپتال کے ساتھ ساتھ ایک پن بجلی گھر بھی تعمیر کرے تاکہ اس وادی کو اندھیروں سے نکالا جاسکے اور ان کی زندگیوں میں بھی اجالا آجائے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے
اپنی وال پرشیئرکریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں