اسرائیل کے ہاتھوں اپنی گرفتار بیٹی کے عزم و ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں، باسم التمیمی Israel
The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل کے ہاتھوں اپنی گرفتار بیٹی کے عزم و ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں، باسم التمیمی

انقرہ : اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ رسید کرنے والی 16 سالہ بہادر فلسطینی لڑکی کے والد نے کہا ہے کہ میری بیٹی مزاحمت کار اور جنگجو ہے اُسے ہمدردی یا ترس کی نہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے.

ان خیالات کا اظہار باسم التمیمی نے لاعربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کیا، اُن کا کہنا تھا کہ عہد تمیمی اپنی مٹی پر قابض افواج سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور اسرائیلی فوج کے سامنے برسرپیکار ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ میری بیٹی نے نئی آنے والی نسل کو اپنے سرزمین کی آزادی کے لیے متحرک کیا اور اس جنگ کا آغاز کا تن تنہا کیا تھا لیکن اب ہر لڑکی عہد تمیمی بننا چاہتی ہے.

باسم التمیمی نے بتایا کہ عہد تمیمی کی پرورش ایک مزاحمت کرنے والے خاندان میں ہوئی ہے جس کے والد کو 9 مرتبہ اور والدہ کو 5 مرتبہ حراست میں لے کر مہینوں قید میں رکھا گیا لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری.

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کی بھی انہی خطوط پر تربیت کی ہے اور ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد میں آنے والی مشکلات سے نمٹنے کا حوصلہ اور جذبے سے ذہن سازی کی ہے اور اب بھی میں اپنی بیٹی کے دل میں کسی قسم کا خوف اور تشویش پیدا نہیں کرنا چاہتا.

بیٹی کی گرفتاری سے متعلق باسم التمیمی کا کہنا تھا کہ قابض حکام نے بے بنیاد الزامات لگا کر گرفتار کیا ہے جس پر عدالت اپنا فیصلہ پیر کو دے گی اور جو بھی فیصلہ ہو وہ ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کرسکے گا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں