The news is by your side.

Advertisement

شہد کی مکھیاں ہاتھیوں کے مقابلے پر آگئیں۔ جانیے کیسے

کرناٹک : بھارت میں ہاتھیوں کے انسانی آبادیوں پر ہونے والے حملوں کو روکنے کیلئے انوکھا طریقہ اپنایا گیا ہے، جس کے تحت شہد کی مکھیاں ان کے راستے میں رکاوٹ بن کر واپس جانے پر مجبور کردیں گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کھادی اینڈ ویلیج انڈسٹریز کمیشن (کے وی آئی سی) کی جانب سے کرناٹک میں ایک منصوبے پر کام کیا جارہا ہے جس سے ہاتھیوں کے ہونے والے حملوں کو ناکام بنایا جاسکے گا۔

چھوٹی اور درمیانہ صنعتوں کی مرکزی وزارت نے بتایا کہ کمیشن نے ملک میں انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان تصادم کو کم کرنے کے لیے “شہد کی مکھی، باڑ” بنانے کا ایک انوکھا پروجیکٹ شروع کیا ہے۔

کمیشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ 15 مارچ 2021 کو کرناٹک کے کوڈاگو ضلع کے چیلور گاؤں کے آس پاس 4 مقامات پر پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے، یہ مقامات ناگر ہول نیشنل پارک اور ٹائگر ریزرو کے داخلی راستوں میں واقع ہیں۔ ری ہیب  پرجیکٹ کی کُل لاگت محض 15 لاکھ روپے ہے۔

کے وی آئی سی نے ہاتھیوں کے داخلی راستے کو انسانی بستیوں تک جانے سے روکنے کیلئے ہاتھیوں کے گزرنے کے راستوں کے 4 مقامات میں سے ہر جگہ شہد کی مکھیوں کے 15 سے 20 باکس لگائے ہیں۔

مذکورہ باکس ایک تار کے ساتھ منسلک ہیں تاکہ جب ہاتھی گزرنے کی کوشش کرتے ہوئے تار سے ٹکرائیں  گے تو اس سے مکھیوں کو  حرکت ملے گی، اور وہ باہر آکر  ہاتھیوں کے جھنڈ کو آگے بڑھنےسے روک دیں گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شہد کی مکھیوں کے کچھ  باکس کو زمین پر رکھا گیا ہے اور ساتھ ہی ہاتھیوں کے راستے کو روکنے کے لئے درختوں سے بھی لٹکایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ہاتھیوں پر شہد کی مکھیوں کے اثرات اور ان علاقوں میں ان کی نقل وحرکت کو ریکارڈ کرنے کے لئے اہم جگہوں پر نائٹ ویژن کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

کے وی آئی سی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ سائنسی اعتبار سے بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ہاتھی شہد کی مکھیوں سے گھبراتے ہیں اور وہ شہد کی مکھیوں سے بہت ڈرتے بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہاتھیوں کو ڈر لگتا ہے کہ شہد کی مکھیوں کے جھنڈ سونڈ اور آنکھوں کے ان کے حساس اندرونی حصے کو کاٹ سکتی ہیں، شہد کی مکھیوں کا جھنڈ ہاتھیوں کو پریشان کرتا ہے اور یہ انہیں واپس چلے جانے کے لئے مجبور کرتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں ہاتھی کے حملوں کی وجہ سے ہر سال تقریباً 500 اموات ہوتی ہیں۔ یہ ملک بھر میں شیروں کے حملوں سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔ 2015 سے 2020 تک ہاتھیوں کے حملوں میں تقریبا 2500 لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ اس میں سے صرف کرناٹک میں تقریبا 170 انسانی اموات ہوئی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں