The news is by your side.

Advertisement

بیلاروس: صحافی کی گرفتاری کے لیے مسافر طیارہ زبردستی اتار لیا گیا

منسک: یورپی ملک بیلاروس میں ایک صحافی کی گرفتاری کے لیے مسافر طیارے کو زبردستی اتار لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق یونان سے لیتھوانیا جانے والی ایک پرواز کو زبردستی بیلاروس میں اتارا گیا، بیلا روس کے سیکیورٹی حکام نے جہاز پر سوار حکومت مخالف سرکردہ اپوزیشن صحافی رومن پروٹا سویچ کو حراست میں لینے کے بعد پرواز کو جانے دیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ بیلاروس نے جہاز میں بم کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنا ایک لڑاکا طیارہ بھیج کر لیتھوانیا جانے والے طیارے کو لینڈنگ پر مجبور کیا، دیگر غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ 26 سالہ صحافی رومن پروٹا سویچ بیلاروس کی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک نمایاں صحافی اور توانا آواز ہیں۔

رومن پروٹا سویچ رائن ایئر کی ایک پرواز کے ذریعے یونان سے لیتھوانیا جا رہے تھے، ان کی فلائٹ بیلاروس کی حدود سے گزر رہی تھی، جب مقامی فلائٹ کنٹرولر نے فضائی عملے کو جہاز میں بم کے خطرے سے خبردار کیا، اور پائلٹ کو ہدایت کی کہ جہاز کو مِنسک کے ہوائی اڈے پر اتار لیں، اس دوران بیلاروس کا ایک جنگی جہاز اس پرواز کے گرد چکر لگاتا رہا۔

مسافر بردار طیارے کے مِنسک ایئر پورٹ پر اترنے کے بعد سیکیورٹی حکام صحافی کو ان کی روسی گرل فرینڈ کے ساتھ حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔

بیلاروس میں صدر لوکاشینکو کی شخصی حکمرانی کے خلاف سرگرم صحافی رومن پروٹا سویچ کو اس انداز میں حراست میں لیے جانے پر یورپی ممالک نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے، بیلاروس پر مسافر جہاز اغوا کرنے کا الزام لگا کر اس کی سخت مذمت کی گئی، یورپی یونین کی خارجہ امور کے سربراہ یوزیپ بوریل نے جہاز کا راستہ زبردستی تبدیل کرنے کو ایک قابل مذمت اقدام قرار دیا۔

اس واقعے کے بعد یورپی یونین اور بیلاروس کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، لیتھوانیا کے صدر گیٹانس ناؤزیڈا نے بیلاروس کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بِلنکن نے صحافی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں