The news is by your side.

Advertisement

معروف امریکی گلوکارہ بھی جنسی ہراسگی کا شکار

نیویارک : معروف امریکی گلوکارہ بیونسے کے والد میتھیو کنولز کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو بھی 16 سال کی عمر میں راک بینڈ کے دو ممبرز کی جانب سے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی گلوکارہ بیونسے کے والد نے یہ انکشاف ایک ویڈیو انٹرویو کے دوران کیا، ان کا کہنا تھا کہ سال 2000 کے آغاز میں بیونسے کا بینڈ ڈیسٹنی چائلڈ ایک اور بینڈ جیگڈ ایج کے ہمراہ ایک دورے پر روانہ ہوا تھا کہ دوران سفر میری بیٹی بیونسے کا فون آیا اس نے مجھے جنسی ہراسگی سے متعلق بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت گلوکارہ بیونسے کی عمر 16 برس تھی جبکہ جیگڈ ایج بینڈ کے ان دو نوجوانوں کی عمر 21 سے 22 سال کے درمیان تھی جو بیونسے کو ہراساں کررہے تھے۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان دونوں نوجوانوں نے بیونسے کے ساتھ ساتھ ان کے بینڈ کی ایک اور گلوکارہ کیلی رولینڈ کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا۔

واضح رہے کہ بیونسے کے والد ان کے منیجر بھی رہ چکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واقعے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے میتھیو نے بتایا کہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ بیونسے اور کیلی نے مجھے فون کیا تھا اور کہا تھا کہ جیگڈ ایج بینڈ کے دو نوجوان ہمیں مسلسل ہراساں کررہے ہیں،جس کے بعد میں نے فوری اس بینڈ کو سفر کے بیچ میں ہی بس سے اتار دیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ67 سالہ میتھیو کنولز نے البتہ چار نوجوانوں پر مشتمل بینڈ کے ان دو نوجوانون کا نام بتانے سے گریز کیا ہے۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی دونوں بینڈز کے ایک ساتھ سفر کرنے کے اپنے فیصلے پر شرمندہ ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بیونسے کا بینڈ ڈیسٹنی چائلڈ اس دور کا مقبول بینڈ مانا جاتا تھا، چار گلوکاراؤں پر مشتمل یہ بینڈ کچھ سالوں بعد سب کے الگ ہونے کے بعد ٹوٹ گیا۔

واضح رہے کہ بیونسے 2014 میں فوربز فہرست میں سب سے زیادہ کمانے والی سلیبرٹی کا اعزاز حاصل کرچکی ہیں، جب کہ 2017 میں وہ اسی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

خیال رہے کہ بیونسے کے میوزک ایلبم لیمونیڈے نے 2016 میں دنیا کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ایلبم کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں