پانامالیکس کے بعد ایک اور مالیاتی اسکینڈل میں سیکڑوں پاکستانیوں کی آف شورکمپنیاں نکل آئیں -
The news is by your side.

Advertisement

پانامالیکس کے بعد ایک اور مالیاتی اسکینڈل میں سیکڑوں پاکستانیوں کی آف شورکمپنیاں نکل آئیں

بہاماس : آئی سی آئی جے کی پاناما لیکس کے بعد دوسرا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا، مالیاتی اسکینڈل بہاماس لیکس میں سیکڑوں آف شورکمپنیاں منظرعام پر آگئیں، ان کمپنیوں کے مالکان اور ڈائریکٹروں میں پھر ڈیڑھ سو پاکستانی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بہاماس کے جزیرے میں دنیا بھر سے سیکڑوں افراد کے خفیہ اکاؤنٹ سامنے آ گئے، لیکس میں بتایا گیا ہے کہ 16 سال میں 1لاکھ 75ہزار کمپنیوں میں223 ارب ڈالرچھپائے گئے، کمپنیاں1959ءسے2016ءکے درمیان بنائی گئیں، جن کی تفصیلات جلد ہی منظر عام پر لائی جائیں گی۔

بہاماس لیکس میں پونے دو لاکھ آف شور کمپنیوں میں سے انہتر کمپنیاں پاکستانیوں کی ہیں، جن میں سے انسٹھ کمپنیوں کے مالکان اور ڈائریکٹروں میں ڈیڑھ سے پاکستانی شہری شامل ہیں۔


مزید پڑھیں : پاناما لیکس کے مزید انکشافات منظرعام پر


رہنما جماعت اسلامی پروفیسر خورشید بہاماس میں بینک کے ڈائریکٹرکے طور پر سامنے آئے، پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ میں بینک کا ڈائریکٹر تو رہا مگر میرا بینک میں کوئی مالیاتی شیئر نہیں۔

تہمینہ درانی کی والدہ ثمینہ درانی کی بھی بہاماس میں ایک آف شور کمپنی ہے، ثمینہ درانی وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی ساس ہیں، اسی طرح سابق وفاقی وزیرنصیرخان کے بیٹےجبران خان بہاماس میں آف شورکمپنی کے مالک ہیں۔

خانانی اینڈ کالیا کے الطاف خانانی کے بیٹے عبید الطاف خانانی کی بہاماس میں آف شور کمپنی سامنے آئی ہے، عبید کے والد الطاف خانانی دہشت گردی کی فائنانسنگ کے الزام میں امریکا میں زیر حراست ہیں، اس کے علاوہ بھی متعدد بزنس مینوں کے نام بہاماس لیکس میں سامنے آئے ہیں۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی کے کزن کی بھی آف شور کمپنی نکل آئی، احمد راتب ہیروئن اسمگلنگ کے الزام میں امریکا میں نو سال قید رہے ہیں، حامد کرزئی کے کزن احمدراتب کی آف شورکمپنی کا پتہ اسلام آباد درج ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں