The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کی سیاست میں بڑی ہلچل، علیم خان بھی جہانگیرترین گروپ میں شامل

پنجاب کی سیاست میں بڑی ہلچل مچ گئی، عمران خان کے قریبی ساتھی علیم خان نے بھی جہانگیر ترین گروپ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پی ٹی آئی رہنما علیم خان لاہور میں جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر پہنچے جہاں مشاورت کے بعد انہوں نے ساتھیوں سمیت جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیم خان نے کہا کہ طاقتورحکمران کیخلاف لاہورمیں کھڑاہونابڑی بات ہے، پی ٹی آئی کسی فردواحدکی نہیں ہم سب کی پارٹی ہے، ہمیں پارٹی کوبچانےکیلئےاکٹھےہوکرکوشش کرنی ہے، ہماری جدوجہدملک میں اصلاحات اورنظام کی تبدیلی کیلئےہے۔

علیم خان نے دعویٰ کیا کہ وہ چار دن میں 40 سےزائدایم پی ایزسےمل چکے ہیں اور اکثر ارکان پنجاب میں طرز حکمرانی پر تشویش کا شکار ہیں، ہمارےفعال ہونےکامقصدپارٹی کومشکلات سےنکالناہے،ہم وفادار دوستوں کو پارٹی کیلیے فعال ہونا پڑیگا تحریک عدم اعتماد آئی تو جہانگیر ترین سے مل کر فیصلہ کریں گے کہ کس کا ساتھ دینا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جہانگیرترین نےپارٹی کیلئےبہت محنت اورجدوجہدکی ہے،جہدوجہدکورائیگاں جاتےدیکھ کردلی افسوس ہوتاہے، ہماری آخری وقت تک کوشش ہےکہ پی ٹی آئی کومضبوط کریں، پی ٹی آئی کومتحدکرنےکیلئےہم سب اکٹھےہوں گے۔

علیم خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننےکیلئےعمران خان کاساتھ نہیں دیاتھا بلکہ نئے پاکستان کیلئےعمران خان کاساتھ دیاتھا، وزیراعلیٰ کےپاس جوگاڑیاں ہیں اس سےاچھی گاڑیاں استعمال کرتاہوں، حکومت کارکردگی دکھارہی ہوتی توہمیں افسوس نہ ہوتا، ہماری پارٹی مقبول ہورہی ہوتی تونظراندازہونےپرکوئی دکھ نہ ہوتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہہم نےایک جذبےکےتحت وقت گزاراتھااورتحریک کوسنبھالا، لیکن حکومت میں آئے تو برے وقت میں ساتھ دینے والے پیچھے چلے گئے جبکہ اور لوگ آگئے جو حکمرانوں کے آس پاس ہوتے ہیں۔

علیم خان نے مزید کہا کہ تحریک کا حصہ رہا ہوں جو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے، ہم خیال گروپ ہےجس میں تمام وہ لوگ شامل ہونگےجوکرداراداکرتےرہےہیں، جس طرح کی تبدیلی حکومتوں میں آرہی ہے ہم وفادار دوستوں کو پارٹی کیلیے فعال ہونا پڑیگا۔

علیم خان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کا بھی جدوجہد میں بڑا حصہ ہے، وہ مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوئے لیکن انہیں حکومت آنے کے بعد اہمیت نہیں دی گئی، جہانگیر ترین کو کیوں نظر انداز کیا گیا اس کا جواب آج تک نہیں ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سارےساتھی عمران خان کیساتھ تھے، بہت سارے ساتھی عمران خان کے ساتھ تھے وہ سب ہمارے لیے قابل احترام ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ جنہوں نے قربانیاں دی ہیں وہ سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔

علیم خان نے بتایا کہ وہ سب کی مشاورت سے فعال ہوئے ہیں اور انہوں نے خود سعید اکبر نوانی کو جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر میٹنگ رکھنے کا کہا تھا جس کا مقصد جہانگیر ترین کو پیغام دینا تھا کہ ہم نے آپ کو بھلایا نہیں ہے۔

اس سے قبل علیم خان جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر پہنچے تو ترین گروپ کے اراکین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، گروپ ارکان نے کہا کہ آپ کے آنے سے ہماری طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں