The news is by your side.

Advertisement

پارک لین کمپنی کیس : آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے بیان ریکارڈ کرادیا

اسلام آباد : پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف زرداری نے  پارک لین کمپنی کیس میں نیب میں پیش ہوکر  بیان ریکارڈ کرادیا ، نیب کی جانب سے دونوں رہنماؤں کو سوال نامہ دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو آج والد آصف علی زرداری کے ساتھ نیب دفتر پہنچ گئے ، دونوں 19گاڑیوں کےقافلےمیں نیب دفترپہنچے ، نیب کے پرانے ہیڈ کوارٹرزکو پنڈی آفس قرار دیا گیا ہے، اس موقع پر نیب کی درخواست پرسیکیورٹی کےسخت انتظامات کیےگئے ہیں۔

نیب آفس اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری، اسپیشل برانچ اور رینجرز اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔

پی پی کارکنان کی نیب دفترمیں گھسنےکی کوشش ، 5 پولیس اہلکار زخمی ، 50 زیرحراست


نیب دفتر کے باہر پیپلزپارٹی کارکنان جمع ہوکر حکومت کےخلاف نعرے بازی کی اور نیب دفترمیں گھسنےکی کوشش کی، نادرہ چوک کے قریب 2 پولیس اہلکار پتھر لگنے سے زخمی ہوئے۔

جیالوں اورپولیس کےدرمیان ہاتھا پائی میں 5 پولیس اہلکار زخمی جبکہ 50 افراد کو زیرحراست لے لیا گیا۔

جیالوں نے نیب دفتر کےگیٹ سے ہٹنےسےانکار کیا، جیالوں کی ہٹ دھرمی کی باعث پارٹی قیادت کی گاڑی ایک ہی جگہ کھڑی رہی، جیالے کوئی  بھی بات ماننے کو تیارنہیں اور پارٹی قیادت کےساتھ جانے پر بضد رہے۔

پارٹی رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پولیس پر حملہ کیا اور دھکے دیے جبکہ کارکنوں کو پولیس پر حملے کے لیے اکساتے رہے۔

آصف زرداری اور بلاول بھٹو نیب کے سامنے پیش


آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نیب کی تفتیشی ٹیموں کے سامنے پیش ہوئے ، نیب کی 16رکنی ٹیم نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے پوچھ گچھ  کی۔

نیب کی آصف زرداری اوربلاول بھٹوسے تفتیش کی حکمت عملی طے


نیب نے آصف زرداری اوربلاول بھٹوسے تفتیش کی حکمت عملی طے کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کو  سوالنامہ فراہم کیا اور کہا گیا دونوں سے الگ الگ ٹیمیں نے سوالات کیے جائیں گے جبکہ ضرورت پڑنے پر دونوں سے مشترکہ سوالات بھی کیےجائیں گے، تفتیشی ٹیموں میں مجموعی طورپر16افسران شامل ہیں، جس میں نیب کے 4 نگران کیس افسران بھی موجود ہیں۔

نیب کا بلاول بھٹو کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ آصفہ بھٹو سمیت مرکزی قیادت کو ہال میں بٹھا یا گیا۔

بلاول بھٹو نیب کی کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور   بیان ریکارڈ کرایا اور کہا امیدکرتاہوں آئندہ مجھےنیب نہیں بلائے گا۔

نیب دفترمیں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کابیان قلم بند کرلیا گیا ہے ،دونوں کو سوالات پرمشتمل سوالنامہ فراہم کیاگیا اور 3 سے 4 دن میں جوابات جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے، جس کے بعدبلاول بھٹواورآصف زرداری اپنی پنی گاڑیوں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔

اس سے قبل پیپلزپارٹی نے نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے رابطہ کرلیا ہے، دو مشترکہ تحقیقاتی ٹیمز نیب کے پرانےہیڈکوارٹرمیں موجود ہے،  دونوں ٹیموں کو الگ الگ کمروں میں بٹھایا جائے گا، ایک ٹیم آصف زرداری، دوسری بلاول بھٹو کا بیان ریکارڈ کرے گی جبکہ نیب کے انٹیلی جنس ونگ کو بھی طلب کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی کی سربراہی میں جے آئی ٹی آصف زرداری اور بلاول بھٹوکے بیانات ریکارڈ کرے گی ،جے آئی ٹی ارکان کی جانب سے زبانی سوالات کے ساتھ ساتھ سوالنامےبھی تیار کئے گئے ہیں جن کے تحریری جوابات طلب کئے جائیں گے۔

پارک لین کیس میں اربوں روپےکی ترسیلات جعلی بینک اکاؤنٹس سے کی گئیں، نیب

نیب ذرائع کے مطابق آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو پارک لین کمپنی کیس میں طلب کیا گیا ہے، پارک لین کیس میں اربوں روپےکی ترسیلات جعلی بینک اکاؤنٹس سے کی گئیں، آصف زرداری پرپارک لین کمپنی میں 1989 میں فرنٹ مین کے ذریعے خریداری کاالزام ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے 2009 میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کمپنی کے شیئرہولڈر بنے،دونوں 25،25فیصد کےشیئر ہولڈر ہیں، آصف زرداری بطور کمپنی ڈائریکٹر اکاؤنٹس استعمال کرنےکااختیار رکھتے تھے جبکہ 2008 میں کمپنی کے دستاویز پر آصف زرداری کےبطور ڈائریکٹر دستخط موجود ہیں، پارک لین کمپنی نے قرضوں کی مد بھی بینکوں سے اربوں روپے لیے۔

جے آئی ٹی وزیراعلیٰ سندھ ،فریال تالپوراوردیگرافرادکوبھی طلب کرےگی۔ تمام نامزد افرادکےبیانات رکارڈ کئے جائیں گے۔

دونوں رہنماؤں کی نیب میں پیشی پر اظہار یکجہتی کے لئے کارکنان کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی گئی ہیں۔

پیشی سے قبل بلاول بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ظلم کی بات کو ،جہل کی رات کومیں نہیں مانتا۔

گذشتہ روز بلاول بھٹو نے وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد نیب میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ سابق صدر آصف زرداری نے نیب میں طلبی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

مزید پڑھیں : چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کل نیب میں پیش ہونے کا فیصلہ

بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی 10دن کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی تھی اور آصف زرداری کو تفتیش کے لئے نیب میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے چئیرمین نیب کی درخواست پر بینکنگ کورٹ نے میگا منی لانڈرنگ کیس کراچی سے راول پنڈی منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت دیگرملزموں کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت بھی خارج کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں