The news is by your side.

Advertisement

متنازعہ شہریت قانون مودی کے گلے پڑگیا، دہلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست

نئی دہلی: بھارت میں ریاستی انتخابات میں مودی اور ان کی انتہا پسندی کو منہ کی کھانی پڑگئی، نئی دہلی کے عوام نے سیکولر جماعت عام آدمی پارٹی کو منتخب کرلیا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابات جیتنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ دیے اور متنازعہ شہریت قانون بھی منظور کیا لیکن عوام نے انہیں اور ان کی انتہا پسندی کو مسترد کر کے عام آدمی پارٹی کو چن لیا۔

نئی دہلی کی اسمبلی کے انتخابات میں وزیر اعلیٰ اروند کیجروال کی جماعت عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 63 سیٹیں حاصل کرلیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) صرف 7 سیٹیں حاصل کرسکی۔

فتح کے بعد عام آدمی پارٹی مسلسل تیسری بار دہلی میں حکومت بنانے جارہی ہے۔

گزشتہ انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو 70 میں سے 67 سیٹیں ملی تھیں جبکہ انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی صرف 3 سیٹیں حاصل کرسکی تھی۔ اس سے قبل کانگریس دہلی پر مسلسل 15 سال حکومت کرتی رہی تھی۔

اروند کیجروال اور ان کی پارٹی نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگے تھے جبکہ بی جے پی دہلی کے مسائل سے زیادہ ملکی سطح کے مسائل اور اپنی کارکردگی کو دہراتی رہی۔

بی جے پی کو امید تھی کہ انہیں شہریت کے متنازعہ قانون کا فائدہ پہنچے گا لیکن الٹا یہ قانون ان کے گلے پڑ گیا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ قانون عام انتخابات میں بھی مودی اور ان کی جماعت کو لے ڈوبے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں