The news is by your side.

Advertisement

امریکہ : سفاک والدین ہتھکڑی لگانا بھول گئے، لڑکا گھر سے فرار

وارن کاؤنٹی : امریکی ریاست میسوری میں والدین کے ظلم و ستم سے تنگ آکر 12سالہ لڑکا رات کی تاریکی میں اس وقت گھر سے فرار ہوگیا جب والدین اسے ہتھکڑی لگانا بھول گئے۔

تفصیلات کے مطابق مسوری اسٹیٹ ہائی وے پولیس کو رات کے اوقات میں ایک لڑکا سڑک پر جاتے ہوئے ملا، 12سالہ لڑکا ایک بھرے ہوئے بیگ کے ساتھ شاہراہ پر چل رہا تھا۔

گشت پر معمور اہلکار نے اس سے پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ وہ اپنے گھر سے بھاگ کر آیا ہے کیونکہ اس کے والدین40 سالہ کرسٹوفر کریٹس اور 33 سالہ نیکول کریٹس اس پر تشدد کرتے ہیں اور آج اسے سونے سے پہلے ہتھکڑی لگانا بھول گئے تھے۔

اس نے کہا کہ وہ گھر سے نکل کر بہت خوش ہے کیونکہ وہ کھلی فضا میں سانس لے رہا ہے، وارن کاؤنٹی شیرف کیون ہیریسن نے کہا کہ وہ لڑکا صرف یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی مدد کرے۔

پولیس کے مطابق کرسٹوفر کریٹس بچے کا باپ ہے اور نیکول کریٹس اس کی سوتیلی ماں ہے۔ ان دونوں پر بچوں کے ساتھ سنگین زیادتی کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ لڑکے کے والد کرسٹوفر پر اس سے پہلے بھی اغوا اور غیر قانونی آتشیں اسلحہ رکھنے کا بھی الزام ہے۔

پولیس کو بیان دیتے ہوئے لڑکے کے والدین نے بتایا کہ ان کا بیٹا کھانا اور کینڈی کو چپکے سے کھا رہا تھا جو اس کی صحت کیلئے نقصان دہ ہے اس کو کینڈی کھانے سے روکنے کیلئے یہ اقدام کرنا پڑا کیونکہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

پولیس کو بیان دیتے ہوئے لڑکے کے والدین نے بتایا کہ ان کا بیٹا کھانا اور کینڈی کو چپکے سے کھا رہا تھا جو اس کی صحت کیلئے نقصان دہ ہے اس کو کینڈی کھانے سے روکنے کیلئے یہ اقدام کرنا پڑا کیونکہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

دوسری جانب لڑکے نے پولیس کو بتایا کہ پہلے اس کا وزن 115 سے 120 پاؤنڈ ہوتا تھا، جب حکام نے انہیں اسپتال لے جایا تو اس کا وزن 74 پاؤنڈ تھا۔ اسے ریفٹنگ سنڈروم کا بھی سامنا کرنا پڑا ، جو ایک ایسی حالت ہے جو دل کی ناکامی ، دوروں ، تھکاوٹ اور الجھن کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ وہ بھوک سے مبتلا ہیں۔

اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک معجزہ ہے کہ اس لڑکے کو زیادہ زخمی نہیں کیا گیا، حالانکہ اس کی آنکھیں سوجہ ہوئی ہیں اور اس کی پیشانی بھی تشدد کی وجہ سے سوج رہی ہے، ہمیں خوشی ہے کہ کہ یہ لڑکا گھر سے نکل کر پولیس کی تحویل میں آگیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں