The news is by your side.

Advertisement

بجٹ 2022-23:سرکاری ملازمین کے لئے بُری خبر

اسلام آباد: سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں میں اضافہ کیسے کیا جائے؟حکومت کو نیاچیلنج درپیش ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ دس جون تک پیش کیا جانے کا امکان ہے، ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا حکومت کے لئے بڑا چیلنج بن گیا ہے، اور خزانہ ڈویژن نے مختلف تجاویز پر غور شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ سے پندرہ فیصد تک اضافے کی تجویز زیر غور ہےتاہم تنخواہوں میں اضافےکی حتمی منظوری آئی ایم ایف رضامندی سےمشروط ہوگی۔

تنخواہوں کو کیسے بڑھایا جائے گا؟ حکام نے اس سلسلے میں تین تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیا ہے پہلی تجویز یہ ہے کہ گریڈ ایک سے انیس تک تنخواہوں میں پانچ سے1دس فیصد ایڈ ہاک الاؤنس بڑھایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا بجٹ کون پیش کرے گا؟ اتحادی حکومت کشمکش کا شکار

دوسری تجویز یہ ہے کہ گریڈ بیس تا بائیس کےملازمین کیلئے دس سے پندرہ فیصد تک اضافہ کیا جائے جبکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کیلئے پنشن میں پانچ سے دس فیصد اضافے کی تجویز سامنے آئی۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پےاینڈ پنشن کمیشن کی جانب سے رپورٹ حکومت کو موصول نہیں ہوئی ہے، حکومت نے پےاینڈپنشن کمیشن کو جلد رپورٹ تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

واضح رہے کہ مالی سال دو ہزار بائیس ۔ تئیس کا وفاقی بجٹ دس جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،وزیراعظم شہباز شریف نے دس جون کو وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جاچکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں