The news is by your side.

Advertisement

کینیڈا کا ایک مرتبہ استعمال ہونے والی پلاسٹک اشیا پر پابندی کا فیصلہ

اوٹاوا : کینیڈا نے ایک مرتبہ استعمال ہونے والی پلاسٹک اشیا پر پابندی کا فیصلہ کرلیا ، وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا 2021 سے قبل کینیڈا، ساحلی بندرگاہوں پر ایک مرتبہ استعمال ہونے والی نقصان دہ پلاسٹک پر پابندی عائد کردے گا۔

تفصیلات کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا 2021 تک ملک میں ایک مرتبہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی مصنوعات کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔

جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا سائنسی بنیادوں پر جائزے کی بنیاد پر مخصوص اشیا پر پابندی کا فیصلہ کیا جائے گا، لیکن حکومت پانی کی بوتلوں، پلاسٹک کی تھیلیوں اور اسٹراز پر غور کر رہی ہے۔

کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ2021 سے قبل کینیڈا، ساحلی بندرگاہوں پر ایک مرتبہ استعمال ہونے والی نقصان دہ پلاسٹک پر پابندی عائد کردے گا، کینیڈا کی حکومت نے یورپی یونین کی پارلیمنٹ سے متاثر ہو کر یہ فیصلہ کیا جس نے مارچ میں ایک مرتبہ استعمال ہونے والی پلاسٹک مصنوعات کی وجہ سے ہونے والی آلودگی کے خلاف ان پر بڑے پیمانے پر پابندی عائد کی تھی۔

ان کا کہنا تھا یورپی یونین کے رکن ممالک سے وابستہ قانون سازوں کو اس اقدام کے اطلاق سے قبل لازمی طور پر رائے شماری کرنی چاہیے۔

جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ اکثر ممالک ایسا کررہے ہیں اور کینیڈا بھی ان میں سے ایک ہوگا، یہ ایک بڑا قدم ہوگا اور ہم جانتے ہیں کہ 2021 تک ہم یہ کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ کینیڈا میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ ری سائیکلنگ کے ذریعے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہےجبکہ کینیڈا کی حکومت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 10 لاکھ پرندے اور ایک لاکھ سمندری جانور پلاسٹک کھانے یا اپنے گرد لپٹنے کی وجہ سے زخمی ہوتے یا مر جاتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں