site
stats
پاکستان

استاد کا اپنے شہید شاگرد کیپٹن اسفند کے نام خط

کیڈٹ کالج حسن ابدال کےاستاد ظہرقندیل نے شاگردکیپٹن اسفندیارشہید کے نام خط لکھا ہے، خط میں انہوں نے اپنے شاگرد کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج وہ چھوٹے رہ گئےاوران کاشاگرد بڑا ہوگیا۔

آج صبح پشاور کے علاقے بڈھ پیر میں واقع پی اے ایف ایئر بیس پر مسلح دہشت گردوں کے حملے کو روکتے ہوئے کیپٹن اسفند یارنے29 افراد کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کیا ہے۔

استاد کا شاگرد کے نام خط


میرے شہید بیٹے اسفند یاربخاری! مجھے یاد ہے جب تم ایم آرایف کالج میں کالج میگزین کے لیے ایک مضمون ’’بوڑھی ویگن‘‘ دینے میرےپاس آئے تھے تب تم ہفتم کے طالبِ علم تھے اورمیں تم سے بہت بڑا تھا۔

اسفند یار! مجھے یاد ہے جب تم اور میں دونوں ایک ہی دن یکم مئی ۲۰۰۱ ء کو کیڈٹ کالج میں داخل ہوئے تھے تم بہ حیثیت کیڈٹ اور میں بہ حیثیت مدرسِ اردو تب تم بہت چھوٹے تھے اور میں بہت بڑا۔

اسفند یار! تم میری کلاس میں تھے شریر بھی اورذہین بھی، تب میں نے پایا کہ تمھاری طبیعت میں بے چینی ہے،آگے سے آگے بڑھنے کی لگن ہے ، سیماب فطرتی ہے، راز پانے کی جستجو ہے ، منزل کھوجنے کی تڑپ ہے، تب تم بہت چھوٹے تھے اورمیں بہت بڑا۔

اسفند یار! تمھارے مضامین ہرسال ابدالین کی زینت بنتے رہے جنھیں تمام ابدالینز ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ تم بہترین مضمون نگار تھے۔

اسفندیار! تم چیمپین جناح ونگ کے ونگ کمانڈر بنے اور مجھے یقین تھا کہ تم کیڈٹ کیپٹن کا اعزاز بھی حاصل کرو گے مگر تمھارا ہدف کچھ اور تھا میرے شہید بیٹے! تم نے پاک فوج میں ’’شمشیراعزاز‘‘ کا اعزازپایا، عزت تمھیں ملی سر ہمارا بلند ہوا۔ مگر تمھاری کھوج اور جستجو ابھی باقی تھی۔

میرے پیارے بیٹے! اب مجھے معلوم ہوا کہ تمھاری جستجو کیا تھی، تمھاری منزل کون سی تھی، تمھیں کس چیز کی بے چینی تھی؟ میرے شہید بیٹے آج تم کتنے بڑے ہوگئے ہو اورمیں کتنا چھوٹا رہ گیا۔


Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top