site
stats
عالمی خبریں

بھارتی فوج کی زیادتیوں کا پردہ چاک، مسلمان سیاست دان پر بغاوت کا مقدمہ

نئی دہلی: مودی سرکار اور بھارتی فوج کے مظالم کا پردہ چاک کرنے والے مسلمان سیاست دان اعظم خان کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

بھارتی میٖڈیا کے مطابق سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے عید ملن پارٹی کے دوران خطاب کرتے ہوئے بھارتی سیکیورٹی فورسز کے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حکومت کے اس رویے پر شدید تنقید بھی کی تھی۔

مسلمان سیاست دان نے کشمیر، پنجاب، آسام، بنگال سمیت مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کے مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آکر خواتین نے بھی ہتھیار اٹھا کر بغاوت کا راستہ اختیار کر لیا۔

پڑھیں: گائے کے نام پر مسلمانوں کا قتل، بھارت میں مظاہرے

انہوں نے کہا تھا کہ خواتین بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف اس قدر غصے کا شکار ہے کہ وہ فوجیوں کو قتل کر کے اُن کے نازک اعضاء بھی کاٹ کر پھینک دیتی ہیں، یہ صورتحال ہندوستان کے لیے شرمناک ہے۔

اعظم خان نے کہا تھا کہ یہ صورتحال ہندوستان کے اصل حالات اور مودی سرکاری کی اصل پالیسیوں کا پردہ فاش کرتی ہے، اگر حکومت نے مظالم کا راستہ نہ چھوڑا تو ہندوستان کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مودی سرکار میں پولیس راج، 80 سالہ خاتون پر تشدد، ہڈیاں توڑ دیں

اس تقریر کے بعد بھارتی پولیس نے معروف مسلمان سیاست دان کے خلاف اُن کے رہائشی علاقے رام پور تھانے میں ملک دشمنی اور بغاوت کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ دوسری جانب ہندو انتہاء پسندوں نے مودی پالیسیوں پر تنقید کے بعد اعظم خان کو قتل کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ ہندو انتہاء پسند پارٹی کے رہنما نے اعظم خان کی زبان کاٹنے پر انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top