The news is by your side.

Advertisement

کراچی چکن گونیا کی لپیٹ میں

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گندگی کے ڈھیر چکن گونیا وائرس کی افزائش کا باعث بن گئے۔ شہر میں چکن گونیا کے درجنوں نئے کیسز سامنے آگئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں چکن گونیا کے کیسز رپورٹ ہونے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سندھ گورنمنٹ اسپتال ابراہیم حیدری میں چکن گونیا کے 39 اور سعود آباد اسپتال میں 18 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: چکن گونیا کیا ہے؟ علامات اور علاج سے آگاہی حاصل کریں

بڑے پیمانے پر بیماری پھیلنے کے باوجود کراچی میں چکن گونیا کی تشخیص کا کوئی انتظام نہیں۔

متاثرہ افراد کے خون کے نمونے این آئی ایچ اسلام آباد بھیجے جاتے ہیں جہاں سے مریضوں میں چکن گونیا پازیٹو کی تصدیق کی جاتی ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کا چکن گونیا، ملیریا اور ڈینگی سے متعلق دورہ مکمل ہوگیا ہے۔

ٹیم نے شہر میں گندگی کے ڈھیروں کو چکن گونیا، ملیریا اور ڈینگی کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈینگی وائرس سے بچیں

واضح رہے کہ کراچی میں اب تک ڈھائی سو سے زائد چکن گونیا کے مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔

اس سے قبل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو کا کہنا تھا کہ چکن گونیا ایک وائرل بیماری ہے اور وائرل بیماری سے بچنے کے لیے ویکسین دی جاتی ہے، مگر چکن گونیا کے حوالے سے اب تک دنیا میں کوئی بھی ویکیسن دریافت نہیں ہوئی ہے۔

احتیاطی تدابیر اپنائیں

چکن گونیا وائرس چونکہ مچھر سے منتقل ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مچھروں سے بچنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: مچھروں سے بچنے کے طریقے

اگر آپ چکن گونیا کے متاثرہ مریض سے ملے ہیں، یا کسی ایسے علاقے کا دورہ کیا ہے جہاں یہ وائرس پھیلا ہوا ہے تو محتاط رہیں اور چکن گونیا کی علامتوں کے معمولی طور پر ظاہر ہوتے ہی فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

وائرس کا شکار ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ آرام کریں۔

جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے مائع اشیا کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

وائرس کا نشانہ بننے سے صحت یاب ہونے تک اسپرین لینے سے گریز کریں۔

اگر آپ پہلے سے کسی مرض کا علاج کر رہے ہیں تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور اس سے آگاہ کریں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں