The news is by your side.

بچوں کی عمر کے مطابق کھیلوں کا انتخاب کیسے کیا جائے؟

والدین کیلئے بچوں کی پرورش کڑے امتحان سے کم نہیں ہوتی، تعلیم وتربیت کے علاوہ ان کو اپنے بچوں کیلئے ان کی عمر کے مطابق کھیلوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔

کھیل اور جسمانی سرگرمیاں بچوں میں کئی مثبت صلاحیتیں اجاگر کرنے میں معاون ہوتی ہیں، والدین کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کیلئے ان کی عمر کے حساب سے ان کیلئے کھیلوں کا انتخاب کریں۔

کھیل

کھیلوں کی سرگرمیوں سے جسمانی طاقت ونشوونما بہتر ہوتی ہے، خود اعتمادی میں اضافہ، غلط و صحیح کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت اور خود کو منظم رکھنے کی طاقت اور قوت پیدا ہوتی ہے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں موٹویشنل اسپیکر ڈاکٹر جاوید اقبال نے والدین کی آگاہی کیلئے کچھ طریقے بیان کیے جو بہت کارآمد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کس طرح والدین اپنے بچوں کو ان کی عمر کی ضرورت کے مطابق ان کو غیر نصابی سرگرمیوں میں مشغول رکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے بچے کم عمری میں ہی کسی نہ کسی کھیل پر عمل کرنا شروع کردیتے ہیں، کسی بھی حالات میں ایسا نہیں کیا جانا چاہئے کہ کسی بھی وقت بچوں کی رائے کو مدنظر رکھے بغیر کسی خاص کھیل کی مشق کرنے پر بچوں کو مجبور کریں۔

اتنے سارے فوائد کے حصول کے لیے اہم نکتہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کی عمر کے مطابق ایسے کھیلوں کا تعین کیسے کیا جاسکتا ہے؟

بچے کی عمر کے مطابق مناسب کھیل

دوبرس کی عمر تک :

اس عمر میں سادہ کھیل جیسے سیڑھیاں چڑھنا ، گیند پھینکنا اور پکڑنا وغیرہ بہتر رہتے ہیں۔

تین سے پانچ برس کی عمرتک :

اس مرحلے میں بچہ کئی بڑے کھیلوں میں عبور حاصل کرنے لگتا ہے، اس عمر میں بے قاعدہ آزادانہ طریقے سے ورزش کرنا خاص طور پر دوڑنا ، تیراکی کرنا مفید ہوتا ہے۔

چھ سے نو برس کی عمر تک :

اس مرحلے میں بچے کو اپنی ذہنی اورعقلی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ماہرین اس مرحلے میں ٹیم کی صورت میں کھیلنے کو بہتر قرار دیتے ہیں۔ خاص طور پر فٹ بال، جمناسٹک، گھڑ سواری، ٹینس، کراٹے، شکار کرنا سیکھنا، طاقت کی مشقیں وغیرہ۔

دس سے بارہ برس کی عمر تک :

اس مرحلے میں بچہ زیادہ پختہ اور کھیل کے قواعدو قوانین کو سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس عمر کو پہنچ کر بچہ باسکٹ بال، ہاکی اور والی بال سمیت مزید پیچیدہ کھیل اپنانے کا اہل ہوجاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں