The news is by your side.

Advertisement

بوفے سسٹم والے ریسٹورنٹ نے پیٹو شخص پر پابندی لگا دی

چین میں بوفے سسٹم والے ایک ریسٹورنٹ نے گھبرا کر ایک صارف کے کھانے پر پابندی عائد کر دی، پیٹو شخص نے محض دو ہی دن میں ساڑھے 5 کلو کی خوراک کھا لی تھی۔

تفصیلات کے مطابق چین میں ’جتنا چاہو کھاؤ‘ (آل یو کین ایٹ) طرزکے ایک مشہور ریستوران نے ایک شخص پر اس لیے پابندی عائد کی کہ اس نے دو دن میں اتنا کھانا کھایا کہ ریسٹورنٹ انتظامیہ پریشان ہو گئی۔

چینی یوٹیوبر اور اسٹریمر نے پابندی لگنے کے بعد کہا کہ اسے بسیار خوری کے نتیجے میں سمندری باربی کیو کھانے بنانے والی ایک کمپنی نے امتیاز برتتے ہوئے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

کانگ نامی شخص نے ہننان ٹی وی کو بتایا کہ وہ جانکشا کے علاقے میں واقع ہنڈاڈی سی فوڈ باربی کیو گئے، تاہم ہوٹل میں داخلے اور اس کی لائیو اسٹریم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ ریسٹورنٹ اس بنیاد پر چلایا جا رہا ہے کہ مخصوص رقم پر کسٹمر یہاں جتنا کھا سکتے ہیں، کھائیں، تاہم کانگ کی آمد کے بعد انتظامیہ کو اپنی پالیسی مہنگی پڑتی دکھائی دی، کانگ نے بتایا کہ اگر میں زیادہ کھاتا ہوں تو کیا یہ میری غلطی ہے؟

کانگ نے بتایا کہ وہ صرف 2 دن ہی وہاں کھانے گیا، پہلے مرحلے میں اس نے پورک کا ڈیڑھ کلوگرام گوشت کھایا تھا، اور دوسرے مرحلے میں ساڑھے تین سے چار کلوگرام جھینگے کھا لیے تھے۔

اس نے بتایا کہ جب وہ سویا دودھ پیتا ہے تو ایک وقت میں 20 سے 30 بوتلیں غٹاغٹ پی جاتا ہے۔ کانگ نے اپنی ایک ویڈیو بھی چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم وائیبو پر اس سلسلے میں ڈالی تھی جو بہت مقبول ہوئی ہے جسے اب تک 25 کروڑ افراد دیکھ چکے ہیں۔

ریستوران پر تنقید کرتے ہوئے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ریستوران نے لامحدود کھانے کی پیش کش کی ہے تو آخر کیوں کسی کو کھانے سے روکا جا رہا ہے، اگر یہ بات ہے تو انھیں یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں