site
stats
عالمی خبریں

چینی آئین میں ترمیم، صدر شی کی قوت میں اضافہ متوقع

حکمران جماعت تیرہ سال بعد چینی آئینی میں ترمیم پر غور کر رہی ہے

ہانگ کانگ: چینی صدر شی جن پنگ کا شمار دنیا کے طاقتور ترین شخصیات میں ہوتا ہے، مگر آیندہ برس ان کی طاقت اور اثرپذیری میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

امریکی خبررساں ادارے کے مطابق 2017 صدر شی جی پنگ کے لیے خاصا کامیاب رہا، مگر چین میں ہونے والی آئینی تبدیلیاں ان کی کامیابیوں میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی تیرہ سال بعد چینی آئینی میں ترمیم پر غور کر رہی ہے، جس سے اقتدار پر صدر شی کی گرفت مزید مضبوط ہوجائے گی۔

یاد رہے کہ اس آئین میں آخری بار 2004 میں ترمیم کی گئی تھی۔

امریکی خبررساں ادارے کے مطابق اس ترمیم کے بعد نیشنل سپرویژن کمیشن کا قیام حتمی ہوجائے گا، جس کے بعد چینی صدر کا 2022 تک عہدے پر برقرار رہنا یقینی ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی صدر شی جن پنگ کا برطانیہ پہنچنے پر شاندار استقبال

واضح رہے کہ پارلیمینٹری پولیس پر صدر کے اختیارات میں اضافے کے بعد یہ اقدام کیا جارہا ہے، جو تجزیہ کاروں کے مطابق دور رس اثرات کا حامل ہوسکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top