پہاڑوں کاعاشق‘ بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم میکر -
The news is by your side.

Advertisement

پہاڑوں کاعاشق‘ بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم میکر

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!آج ہم آپ کی ملاقات کرارہے ہیں گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان فلم میکر فہیم افضل سے جو کہ دو بین الاقوامی ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

فہیم افضل اب تک چھ بین الاقوامی فلمی میلوں میں شرکت کرچکے ہیں اوران میں سے صوفیا بلغاریہ اور روس میں منعقدہ فیسٹولزمیں بہترین سنیماٹوگرافیCINEMATOGRAPHY ایوارڈ زحاصل کیے ہیں۔

ایوارڈ یافتہ فلم کانام ’شُپن خک- آخری واخی چرواہن ‘ہے۔ اس کی ہدایت کاری کے فرائض ژیو ضیا نے انجام دیے ہیں اور فہیم اس فلم کے سینماٹوگرافر ہیں۔

فلم کا ٹریلر دیکھنے کے لیے انٹرویوکے آخر تک اسکرول کیجئے

post-5

انہوں نے فلم میکنگ کی تعلیم پاکستان کے ثقافتی مرکزلاہورمیں نیشنل کالج آف آرٹس سے حاصل کی ہے‘ ان کے والد ایمبولنس ڈرائیور تھے اور فہیم کا کہنا ہے کہ ان کی تمام تر کامیابی والد کے مرہونِ منت ہے جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی ان کی تعلیم کا بار اٹھایا اورپھرفلم میکنگ میں بحیثیت پراڈکشن مینیجرتمام ترمعاملات سنبھالے۔

فہیم مائیکل موراورترسیم سنگھ کو اپنا آئیڈل سمجھتے ہیں‘ ان کا خیال ہے کہ یہ دونوں بہت عظیم فلم ساز ہیں۔ فہیم بذاتِ خود بھی  انتہائی منفرد اورجداگانہ شخصیت کے مالک ہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ کسی کی نقالی کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ


میں کسی کی نقل نہیں کرتا‘ یہ میرے ماحول کا اثرہے‘ میرے آباؤ اجداد چرواہے تھےجب میں

ان کی زندگی کے بارے میں کوئی نئی بات جانتا ہوں تو اسے اپنے اندازِ زندگی میں شامل کرلیتا ہوں


آئیے جانتے ہیں کہ فہیم نے یہ سفر کس طرح طے کیا ہے۔

سوال : – کیسے خیال آیا کہ آپ اپنے علاقے کی خوبصورتی فلم کے ذریعے دنیا تک پہنچائیں؟۔

جواب:- جب امریکہ میں نائن الیون کا سانحہ ہوا ‘ اس وقت میری عمر پندرہ سال کے قریب تھی۔ ا س حادثے نے پاکستان کی سیاحتی صنعت کو بدترین نقصان پہنچایا اور ہمارا خاندان بھی متاثرین میں شامل تھا۔ میرے والد غیر ملکیوں کو جیپ سفاری پر لے جایا کرتے تھے اور سیاحت میں کمی نے ہمیں معاشی طور پر بری طرح متاثر کیا۔

میں چاہتا ہوں کہ نائن الیون سے پہلے والی بہتر زندگی میرے گھر اور پورے گلگت بلتستان میں لوٹ آئے۔ سیاحت ختم ہونے سے
صرف معاشی نقصان نہیں ہوابلکہ غیر ملکیوں کے آنے سے مقامی افراد کو معلومات ملا کرتی تھیں اور دونوں جانب سے ذہانت کا تبادلہ بھی بند ہوگیا ‘ لہذا میں چاہتا ہوں کہ سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے۔

post-6

سوال:- کیا آپ کی دلچسپی صرف شمالی علاقے کے پہاڑوں کی عکس بندی تک محدود ہے یا آپ کبھی کمرشل فیچرفلم بھی بنائیں گے؟۔

جواب:- فی الحال نہیں! میرے خیال میں ابھی پاکستان میں جس قسم کی فلمیں بن رہی ہیں‘ پہاڑوں پر بنائی جانے والی ڈاکیومنٹری فلمیں اپنے اندر فلم بینوں کو متاثر کرنے کی ان سے زیادہ استعداد رکھتی ہیں۔

ابھی میں معاشرے اورافراد کو سمجھنے کے لیےدستاویزی فلمیں بنا رہا ہوں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ آئندہ پانچ سالوں میں آپ میری فیچر فلم بھی دیکھیں گے جسے آپ کمرشل فلم بھی کہہ سکتے ہیں۔

سوال :- کیا آپ کے خاندان نے فلم میکنگ کو بطور پیشہ اپنانے میں آپ کی مدد کی؟۔

جواب:- یہ ایک لمبی کہانی ہے لیکن میں کہوں گا کہ میرے والدین نے میری بے حد مدد کی۔ یہاں ہنزہ میں خالہ پھپو یا دیگررشتے داروں کا کوئی دباؤ نہیں ہوتا لہذا آپ جو چاہیں کرسکتے ہیں۔

post-9

سوال:- پاکستانی فلم انڈسٹری نے آپ کی فلموں پر کیسا ردعمل دیا؟

جواب:- میں پاکستانی فلم انڈسٹری کے بہت سارے افراد کو جانتا ہوں اور انہوں نے مجھے کیرئیر کی ابتدا سے بے پناہ سراہاہے۔

سوال:- فلم میکنگ کی عالمی برادری میں آپ کے کام کو کس طرح سے دیکھا جاتا ہے؟۔

جواب:- ایسا ہے کہ سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک اور انسٹا گرام پر کچھ بہت اچھے بین الاقوامی فلم ساز میرے کام پر نظر رکھتے ہیں اوران کاتبصرہ اور مشورے میرے لیے بے حد قیمتی ہیں۔

میں ان دونوں فلم فیسٹیولز کی انتظامیہ کا بھی بے حد شکرگزار ہوں جنہوں نے میرے کام کودیکھا‘ سراہا اور مجھے ایوارڈز دیے۔

post-10

سوال:- کام کے دوران کوئی ایسا لمحہ جن آپ نے شدید مایوسی محسوس کی ہو‘ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے ؟۔

جواب:- ہاں میری زندگی میں ایسے لمحے بھی ہیں جب میں نے شدید مایوسی محسوس کی ۔ ان میں سے سب سے مشکل یہ ہے کہ میں لگاتارتین سال تک بارہ سے زائد فلموں کے آئیڈیاز این جی اوز اور متعلقہ افراد کو بھیجے‘ لیکن انہوں نے میرے کام کو مسترد کردیا اور مجھے کہا کہ تم خوابوں کی دنیامیں رہتے ہو۔، وہ لمحے میری زندگی کے مشکل ترین لمحے تھے۔

سوال:- کیا آپ کو اپنے علاقے ہنزہ میں ہم خیال لوگ ملے جن کے ساتھ کام کرکے شمالی علاقہ جات میں فلم میکنگ کی صنعت کا آغاز کیا جاسکے؟۔

جواب:- جی بالکل! ہنزہ کے لوگ بہت معتدل مزاج ہیں اور وہ سینما آرٹ کو پسند کرتے ہیں۔ یہاں کے لوگ اس بات کو پسند کریں گے کہ ان کی روایات دنیا بھر میں دیکھی جائیں۔ دریں اثنا ہنزہ سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوان فلم میکرز اس وقت کراچی اور لاہورمیں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ آئندہ تین سے چار سالوں میں ان پہاڑوں کی گود سے بہت سارا ٹیلنٹ دیکھنے کوملے گا۔

سوال:-کیا آپ اپنے علاقے کے فلم میکنگ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو کسی قسم کی کوئی تربیت فراہم کررہے ہیں؟

جواب:- فی الحال میں ایسا کچھ نہیں کررہا لیکن بہت جلد میں گلگت بلتستان کے اسکولز‘ کالجز اور دشوا رگزار گاؤں دیہاتوں میں تربیت کے لیے ورکشاپس کا آغاز کروں گا۔


شُپن خک کی شوٹ کے دوران پسِ پردہ مناظر 


post-1

post-7

post-8

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں