میں شراب وراب کی بات نہیں کرتا، پتہ نہیں یہ نمونے کس طرح تبدیل ہوگئے، چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

میں شراب وراب کی بات نہیں کرتا، پتہ نہیں یہ نمونے کس طرح تبدیل ہوگئے، چیف جسٹس

اسلام آباد : اسپتالوں کی حالت زارسےمتعلق کیس میں چیف جسٹس نے شرجیل میمن کے کمرے سے شراب برآمدگی کے معاملے پر ریمارکس میں کہا بڑاشور پڑا ہوا ہے پتہ نہیں چیف جسٹس نے کیا کردیا، میں شراب وراب کی بات نہیں کرتا، اگرکرتا تو اسی وقت ٹیسٹ کراتا، پتہ نہیں یہ نمونے کس طرح تبدیل ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے اسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کی ، سماعت میں چیف جسٹس نے دورہ کراچی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا میں کراچی سب جیل گیا، کراچی سب جیل تو صدارتی محل بنا ہوا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بڑاشور پڑا ہوا ہے پتہ نہیں چیف جسٹس نے کیا کردیا، میں شراب وراب کی بات نہیں کرتا، کہتے ہیں یہ میرا نہیں، میرے بارے میں کہا مجھے ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا پکڑنا ہوتا تو اسی وقت گرفتار کرادیتا، اگر کرتا تو اسی وقت ٹیسٹ کراتا، پتہ نہیں یہ نمونے کس طرح تبدیل ہوگئے، نمونے کس طرح لیبارٹری گئے اور سب کیسے ہوا، مجھےاس سے کوئی غرض نہیں۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے اسپتالوں کی کمی سے متعلق سیکریٹری صحت اور کیڈ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4 ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔

یاد رہے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کو کراچی کے اسپتالوں میں سیاسی قیدیوں کے کمروں پر چھاپوں کے دوران ضیاء الدین اسپتال میں شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں ملی تھیں۔

جس کے بعد شرجیل میمن سے متعلق شراب نوشی کی رپورٹ سامنے آئی ، جس کے مطابق ’پلازمہ الکوحل ناٹ ڈیٹکٹڈ‘ جبکہ لیب رپورٹ میں الکوحل کے استعمال سے متعلق دیگر 3 ٹیسٹ بھی نارمل قرار دیے گئے۔

واضح رہے کہ سابق صوبائی وزیرشرجیل میمن پونے چھ ارب روپے کرپشن ریفرنس میں احتساب عدالت کے ہاتھوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں