The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعلیٰ سندھ کا کیپٹن (ر) صفدر کے واقعے پر وزارتی کمیٹی بنانے کا اعلان

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مریم نواز کے شوہر اور پی ڈی ایم رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے واقعے پر وزارتی کمیٹی بنانے کا اعلان کر دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق مراد علی شاہ نے آج وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا محمد صفدر کے معاملے پر 3 سے 5 وزرا پر مشتمل کمیٹی بنا رہے ہیں، سب کو تفتیش میں بلائیں گے اور اپنا پوائنٹ آف ویو بھی دیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا 18 اکتوبر کو شام 4 سے 6 بجے تک جو ہوا اس کی انکوائری ہوگی، کچھ باتیں بتائیں گے تو انکوائری پر اثر پڑ سکتا ہے، مزار پر نعرے لگانا نامناسب تھا، یہ پی ٹی آئی بھی کر چکی ہے، پولیس اور اداروں سے پوچھ کر حقائق سامنے لائیں گے، ہم وقاص کو بھی بلائیں گے کہ کمیٹی میں آئیں اور اپنا مؤقف دیں۔

انھوں نے کہا وقاص اشتہاری اور مفرور ملزم ہے، اس تمام جھوٹ میں ایک وفاقی وزیر بھی شامل ہے، پولیس نے قانون کے مطابق 506 بی کا مقدمہ درج کیا ہے، مفرور وقاص نے آج عدالت سے حفاظتی ضمانت کرائی ہے، سب کو معلوم تھا کہ ن لیگ قیادت کو مزار قائد آنا ہے، وقاص بقائی یونی ورسٹی کے پاس تھا اگر مزار قائد آیا بھی تو کیوں آیا، یہ تمام چیزیں کمیٹی میں آئیں گی۔

کیپٹن (ر) صفدر کو رہا کردیا گیا

قبل ازیں، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں تاکہ کنفیوژن دور ہو، 18 اکتوبر کو نااہل وفاقی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، یہ پاکستان کی تاریخ میں کراچی میں سب سے بڑا جلسہ تھا، پی ٹی آئی کےگھبرائے ہوئے لوگ کراچی جلسے پر بات کر رہے تھے، کراچی نے فیصلہ سنا دیا کہ پی ٹی آئی کی ناکام حکومت زیادہ عرصہ نہیں چلے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ نواز قیادت کی مزار قائد پر حاضری کے موقع پر کچھ چیزیں ایسی ہوئیں جو اچھی بات نہیں تھی، یہ ہم سب نے کہا، لیکن مزار کا تقدس سیاسی معاملہ نہیں، ایک ایم پی اے پولیس کو مزار کی بے حرمتی پر درخواست دینے آئے، ایک اور ایم پی اے آتے ہیں درخواست دینے تو پھر انھیں طریقہ سمجھایاگیا کہ آپ یہ نہیں کر سکتے، قانون کے مطابق یہ پولیس کا اختیار نہیں مجسٹریٹ کا ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا مزار قائد کا جو تقدس پامال کیا گیا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن پولیس پر دباؤ ڈالنا منتخب نمائندے کا کام نہیں ہوتا، پولیس دباؤ میں نہیں آئی اس لیے کوئی غلط کام نہیں ہوا، پیپلز پارٹی کبھی کوئی غلط کام کرنے کو پولیس کو نہیں کہےگی، ایک وفاقی وزیر الٹی میٹم دے رہے تھے کہ دیکھتا ہوں کیسے ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، ن کی بوکھلاہٹ عیاں تھی، انھیں کوئی نہ کوئی غیرقانونی کام کرنا تھا۔

’’صفدراعوان کیخلاف مقدمہ درج کروانے والے مدعی کو ملزم بنادیا گیا‘‘

وزیر اعلیٰ نے کہا پھر تھانے میں مقدمے کے لیے وقاص نامی ایک شخص کے ذریعے درخواست دی گئی، تحریک انصاف کے ایم پی اے بھی تھانے میں موجود تھے، درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں، چوں کہ پی ٹی آئی ایم پی اے موجود تھے اس لیے اب اس کی انکوائری ہوگی ایسے نہیں چھوڑا جائے گا، اس سازش کو بے نقاب کریں گے، کل صفدر کی ضمانت ہوگئی ظاہر ہوگیا کہ یہ کیس جھوٹا بنایاگیا تھا، جھوٹے مقدمے پر فیصلہ اب عدالت کرے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ مجھے صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب گرفتاری کا علم ہوا، پولیس اپنا کام کر رہی تھی تو کچھ باتیں سامنے آئیں جو تشویش ناک ہیں، لیکن بتاؤں گا تو انکوائری پر اثر انداز ہوں گی، ایک میٹنگ کی گئی جس میں پوری پلاننگ بنائی گئی، ان کی پلاننگ تھی کہ جلسے میں کوئی تخریب کاری کی جائے، درخواست گزار کہتا ہے قائد اعظم کے مزار پر موجود تھا، وقاص احمد کی لوکیشن چیک کی گئی تو یہ بقائی یونی ورسٹی کے قریب تھا، وہاں یہ لوگ جمع ہوئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں