The news is by your side.

Advertisement

آرمی چیف سے ملاقات کے بعد ہزارہ برادری نے دھرنا ختم کر دیا

کوئٹہ: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے عمائدین نے ملاقات کی، جس کے بعد ہزارہ برادری نے دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق  آرمی چیف سے ہزارہ کمیونٹی کے عمائدین کی ملاقات سدرن کمانڈ میں ہوئی، ملاقات میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو، وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی اور آئی جی بلوچستان بھی موجود رہے۔

ملاقات میں وزیرقانون بلوچستان آغارضا،علامہ ہاشم موسوی، سماجی رہنما طاہرعلی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کےعلی احمد کوہ زاد بھی شامل تھے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ملاقات کے دوران آرمی چیف کوصوبے میں سیکورٹی صورت حال پربریفنگ بھی دی گئی۔

کامیاب مذاکرات کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے کوئی چیز اس کا نعم البدل نہیں ہوسکتی، ہزارہ برادری کو نشانہ بنانے والوں کو عبرت ناک سزائیں دیں گے، تمام ریاستی ادارے شہریوں کی سیکیورٹی کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز امن وامان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، 2018 میں صرف کوئٹہ میں 37 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، متحد قومی کوشش سے دہشت گردی کی لہر کا خاتمہ یقینی بنائیں گے، ملک دشمن خفیہ ادارے دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں۔

آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ تمام پاکستانی متحدہوکر تقسیم کی کوششیں ناکام بنا دیں، قومی اتحاد سے دشمنوں کی کوششوں کو شکست دیں گے، پاکستان کے عوام کی سیکیورٹی کی بہتری کے لیے ہر اقدام کیا جائے گا، نوجوان اپنی اور قومی تعمیر کے لیے مثبت کوششوں پر توجہ مرکوز رکھیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی بلوچستان اسمبلی کے قریب زرغون روڈ پر دھرنے پر بیٹھے ہزارہ کمیونٹی کے عمائدین سے ملاقات کی تھی جس میں انھوں نے ہزارہ برادری کو تحفظ کا یقین دلاتے ہوئے کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حالیہ حملوں میں ملوث مجرموں کو پکڑنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے افراد نے ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کے خلاف غیر معینہ مدت تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ ہمیں تحفظ کی ضمانت دیں گے تو احتجاج ختم ہوگا۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں میں ایک درجن سے زائد افراد جاں بحق جب کہ متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

دو روز قبل کوئٹہ کے پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ میں جاکر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ہزارہ برادری کے عمائدین سے مذاکرات کیے تھے جو ناکام ہوگئے تھے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کنفلیکٹ زون ہے جہاں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، کچھ لوگ ہزارہ برادری کے افراد کو ورغلا کر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں