The news is by your side.

Advertisement

ایک عام دوا جو کرونا وائرس کو ختم کر سکتی ہے، امریکی تحقیق

نیویارک: امریکی محققین نے ایک عام دوا کے بارے میں یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ نزلہ زکام کی طرح کرونا وائرس انفیکشن کو قابل علاج بنا سکتی ہے، نیز یہ محض 5 دنوں کے اندر وائرس کو لگ بھگ مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک عام دوا کو کرونا وائرس کو نزلہ زکام کی طرح قابل علاج بنانے میں مددگار قرار دیا گیا ہے، امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ خون میں کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے والی ایک عام دوا کو وِڈ نائٹین کو اسی طرح قابل علاج بنا سکتی ہے جیسے عام نزلہ زکام۔

یہ تحقیق نیویارک کے ماؤنٹ سینائی میڈیکل سینٹر میں کی گئی، محققین نے یہ جاننے کے لیے تحقیق کی کہ کرونا وائرس کو اپنی بقا کے لیے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، معلوم ہوا کہ کرونا وائرس کو اپنی نقول بنانے کے لیے پھیپھڑوں کے خلیات کے اندر جمع ہونے والی چکنائی یا چربی کی ضرورت ہوتی ہے۔

محققین نے کہا کہ اگر وائرس کو اس چکنائی سے دور رکھا جائے تو اسے بہتر طور سے کنٹرول کرنا ممکن ہے، جس کے بعد وائرس کی شدت عام نزلہ زکام جتنی ہو جاتی ہے، اگر یہ سمجھا جائے کہ کرونا وائرس کس طرح ہمارے میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے، تو اس کے بعد اس پر کنٹرول آسان ہو جاتا ہے۔

ریسرچرز کو جب یہ معلوم ہوا کہ کرونا وائرس کو بقا کے لیے کس اہم جُز کی ضرورت ہے، تو اس کے بعد اس کے علاج کے لیے مختلف ادویات کی جانچ شروع کی گئی، اس تحقیق کے دوران کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے والی عام دوا فینو فائبریٹ (Fenofibrate) سامنے آئی، جس کے نتائج حوصلہ افزا تھے اور یہ وائرس کو نقول بنانے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوئی۔

فینو فائبریٹ ایسی دوا ہے جو پھیپھڑوں کے خلیات کو زائد چربی گلانے میں مدد دیتی ہے، ماہرین نے معلوم کیا کہ یہ کرونا وائرس کو پھلنے پھولنے کے لیے درکار ماحول کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

اس لیبارٹری تحقیق کے دوران جو سب سے اہم بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ مذکورہ دوا نے محض 5 دنوں میں وائرس کو لگ بھگ مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل رینسیلیر پولی ٹیکنیک انسٹیٹوٹ کی ایک تحقیق میں خون پتلا کرنے والی ایک دوا ہیپارن (Heparin) کے بارے میں بھی کہا گیا تھا کہ یہ ممکنہ طور پر کرونا وائرس سے بچانے میں معاون ہو سکتی ہے، جیسا کہ کرونا وائرس اپنے اسپائیک پروٹین کی مدد سے انسانی خلیات کو جکڑ کر بیماری کا باعث بنتا ہے، تو ہیپارن دوا یہ اسپائیک پروٹین سختی سے جکڑ کر بیماری کے عمل کو روک دیتی ہے، جریدے اینٹی وائرل ریسرچ میں شائع تحقیق کے مطابق اسی طرح کی حکمت عملی زیکا اور ڈینگی کی روک تھام میں حوصلہ افزا ثابت ہوئی تھی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت تک بیماری کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کر سکتے ہیں جب تک ایک مؤثر ویکسین تیار نہیں ہو جاتی۔

واضح رہے کہ وائرس سب سے پہلے خلیے کی سطح پر موجود ایک مخصوص ہدف کو نشانہ بناتا ہے، اس کے بعد خلیے کی جھلی سے گزر کر جینیاتی ہدایات داخل کرتا ہے، اور یوں خلیے کے نظام کو ہائی جیک کر لیتا ہے اور پھر نقول بننا شروع ہو جاتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں