The news is by your side.

Advertisement

انوکھا گاؤں، جہاں مرد و خواتین مختلف زبانیں بولتے ہیں

کہا جاتا ہے کہ خواتین اور مردوں کی الگ دنیا ہوتی ہے، یہ بات نائیجریا پر صادق آتی ہے، کیونکہ یہاں ایسی برادری موجود ہے جس کی خواتین اور مرد الگ الگ زبانیں بولتے ہیں۔

یہ برادری نائیجریا کی کراس ریور اسٹیٹ میں رپائش پزیر ہے اس کا نام ‘ اوبانگ’ ہے۔

مرد اور عورتوں کی زبانوں میں کتنے الفاظ مختلف ہیں اس کا مکمل اندازہ تو نہیں ہے، لیکن کئی مثالیں ایسی ہیں جن میں مرد اور عورتیں اپنی گفتگو کے جملےاپنے حساب سے بناتے ہیں۔

مثلاً کپڑوں کے لیے مرد ‘نکی’ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جبکہ خواتین ‘اریگا’ کا، ‘کچی’ کا مطلب مردوں کے لیے درخت ہے جبکہ عورتیں اسے ‘اوکوینگ’ بولتی ہیں۔ نہ صرف دونوں کا تلفظ بالکل جدا ہے، بلکہ الفاظ ہی مکمل طور پر الگ ہیں اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی دیکھتے آئے ہیں یعنی یہ سلسلہ نسل در نسل سے چل رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اوبانگ مرد اور خواتین ایک دوسرے کی باتیں بخوبی سمجھتے ہیں کیونکہ لڑکیاں اور لڑکے اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتے ہیں اس لیے وہ دونوں زبانیں سیکھ جاتے ہیں لیکن دس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد لڑکوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مردانہ زبان استعمال کریں گے۔

کوئی نہیں جانتا کہ اوبانگ میں یہ دو زبانوں کا رواج کیسے اور کیوں آیا؟ لیکن بہت سے مقامی افراد اس نظریے کو مانتے ہیں کہ خدا نے آدم و حوا کو ان کے قبیلے میں پیدا کیا تھا اور انہیں دو مختلف زبانیں عطا کی تھیں۔ ان کے بعد ہر نسلی گروہ کو بھی دو، دو زبانیں ملنا تھیں لیکن اتنی زبانیں تھی ہی نہیں، اس لیے یہ معاملہ صرف اوبانگ تک ہی محدود رہ گیا، یوں یہ گاؤں دنیا بھر سے منفردہے۔

آج جیسے جیسے انگریزی زبان نائیجیریا کے نوجوانوں کی زندگیوں میں داخل ہوتی جا رہی ہے، اوبانگ زبانیں خطرے سے دوچار ہیں، کیونکہ مردانہ اور زنانہ دونوں زبانیں تحریری صورت میں موجود نہیں ہیں، یعنی یہ صرف بولیاں ہیں، اس لیے ان کی اگلی نسل میں منتقلی کا انحصار بڑوں کے سکھانے پر ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں