The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں اردو کیخلاف سازشیں جاری! اسکول بند کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی : بھارتی ریاست گجرات کے اسکولوں میں اردو زبان و ادب و فروغ دینےکے لیے بند کیا جانے لگا۔

بھارتی حکومت اردو سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ ماضی میں بھی اردو کے خلاف متعصب اقدامات اٹھائے گئے تھے جس کے خلاف عوام کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا، ایک مرتبہ پھر بھارتی حکام نے اردو کے خلاف سازشیں شروع کردی ہیں۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاست گجرات میں اردو میڈیم اسکولوں کی حالت روز بروز خستہ ہوتی جارہی ہے اس کے باوجود حکومت اردو زبان اور ادب کےلیے اقدامات اٹھانے کے بجائے اسکولوں کو بند کررہی ہے، اس سلسلے میں حیدر آباد کے مشرقی علاقے میں واقع چھ اردو اسکولوں کو بورڈ نے بوسیدہ قرار دیکر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسکول بورڈ احمدآباد نے ان اسکولوں کو بوسیدہ قرار دے کر بند کر دیا تھا لیکن ابھی تک دوبارہ تعمیراتی کام شروع نہیں کیا گیا، ان اسکولوں کے طلبا کو دور دراز کے اسکولوں میں شفٹ کردیا گیا ہے۔

رکھیال میونسپل اردو اسکول کے سابق پرنسپل عبدالنبی شیخ کا کہنا تھا کہ یہ اسکول 1980 کے بعد قائم ہوا لیکن 2001 کے زلزلے میں اسکول کے پلر کو ڈبل کر دیا گیا، یہ اسکول دکانوں کے اوپر بنا ہے۔

پرنسپل کا کہنا تھا کہ اگر یہ اسکول بوسیدہ ہے تو اس کے نیچے چل رہی دکان کو بھی خطرہ لاحق ہے لیکن دکانیں تو اچھے سے چل رہی ہیں اور حکومت نے اسکول کو بند کرا دیا۔

واضح رہے کہ فی الحال کورونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے گجرات کے تمام اسکولز بند ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں