The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی نئی قسم کے خلاف لاک ڈاؤن مؤثر ثابت، سب سے کم کیسز رپورٹ

ویانا: آسٹریا میں تیسرے اور سخت لاک ڈاؤن کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے، محکمہ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں پہلی بار کرونا کی نئی قسم کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق آسٹریا میں کرونا کی نئی قسم کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد حکومت نے تیسرا سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا جو 24 جنوری تک نافذ العمل رہے گا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تیسرے لاک ڈاؤن کے دوران اگر صورت حال کنٹرول میں آگئی تو حالات معمول پر آسکتے ہیں ورنہ پابندیوں کا دورانیہ بڑھا دیا جائے گا۔

حکومت نے لاک ڈاؤن کے ساتھ ایس او پیز کو مزید سخت کیا جس کے تحت اب ہر شہری کا کرونا ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ریاستوں اور سماجی شراکت داروں کے درمیان معاہدہ بھی طے پاگیا جسے آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کر کے قانون کے طور پر منظور کرایا جائے گا۔

حکومتی نمائندوں کے مطابق پہلے مرحلے میں لاک ڈاؤن سے وباکو پھیلنے سے روکا جائے گا اور پھر اگلے مرحلے میں شہریوں کو ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: فیکٹ چیک: کیا یہ تصویر کرونا ویکسین میں شامل چپ کی ہے؟

محکمہ صحت کی جانب سے جاری کی جانے والی نئی ایس او پیز کے تحت اب کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ 48 گھنٹوں میں جاری کی جائے گی، مختلف شعبوں سے وابستہ شہریوں کو ہر ہفتے کرونا ٹیسٹ لازمی کرانا ہوگا جبکہ وہ عام نہیں بلکہ ایف ایف پی 2 ماسک استعمال کرنے کے پابند ہوں گے اور سماجی فاصلے کا خیال لازمی رکھنا ہوگا۔

وزارتِ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ تیسرے لاک ڈاؤن کے دوسرے ہی دن مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے کیونکہ آسٹریا میں پہلی بار دو ہزار سے بھی کم نئے انفیکشن کے کیسز سامنے آئے جبکہ صرف 36 مریضوں کا انتقال ہوا۔

محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق آسٹریا میں اب تک کرونا کے 7 لاکھ 22 ہزار 400 کے قریب کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 6 ہزار 723 مریضوں دوران علاج جاں بحق ہوئے جبکہ صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد اضافے کے بعد 7 لاکھ 49 ہزار 400 کے قریب پہنچ گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں