The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین: انفیکشن سامنے آنے کے بعد برطانیہ کا بڑا اقدام

لندن: برطانیہ نے امریکی کمپنی فائزر کی کرونا ویکسین کے منفی اثرات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکومتی منظوری کے بعد برطانیہ میں منگل سے شہریوں کو بڑے پیمانے پر کرونا سے بچاؤ کی ویکسین بذریعہ انجکشن لگائی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ویکسین لگوانے والے دو لوگوں کو رد عمل سامنے آیا کیونکہ انہیں ’اینا فلیکیس‘ نامی الرجی شروع ہوگئی ہے۔

برطانیہ ویکسین کی منظوری دینے والا پہلا ملک تھا، یہی وجہ ہے کہ رواں ہفتے مملکت کا ذکر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں رہا، منظوری کے بعد پہلی ویکسین لگانے کی بات کا خوب چرچا ہوا اسی طرح جب ویکسین انفیکشن سامنے آیا تو اُس کا بھی خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا۔

امریکا سمیت دیگر ممالک نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ ہے کہ وہ ویکسین سے ہونے والے انفیکشن کی معلومات فراہم کرے تاکہ ویکسین کے حوالے سے فیصلہ کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: کرونا کی پہلی ویکسین لگوانے والی خاتون کی عوام سے اہم اپیل

ویکسین کے منفی اثرات سامنے کے آنے کے بعد برطانیہ کی سرکاری ریگولیٹری ایجنسی ایم ایچ آر اے (میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پراڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی) نے ہدایت جاری کرتے ہوئے ان افراد کو ویکسین لگوانے سے رکنے کی ہدایت کی جو الرجی کا سامنا کرچکے ہیں۔

ایجنسی کے مطابق ویکسین کے حوالے سے مزید معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں جن کی روشنی میں مزید حفاظتی تجاویز کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ ادارے کے مطابق متاثرہ افراد کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جارہا ہے، حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ انفیکشن کے کیسز کی شرح تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایم آر ایچ اے کے مشیر ڈاکٹر پال ٹرنر کا کہنا ہے کہ خوراک کی وجہ سے اتنا شدید ردعمل ممکن نہیں ہے، یہ فائزر ویکسین میں موجود پولی ایتھلین نامی جزو کی وجہ سے ممکنہ طور پر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولی ایتھلین ویکسین کی خوارک کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کرتا ہے جو دیگر ویکسینز میں موجود نہیں ہوتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں