The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس کے گردوں پر اثرات ، نئی تحقیق میں ہوشربا انکشاف

محققین نے کورونا وائرس کے انسانی گردوں پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ان کا لیب میں تجزیہ کیا ، ان کا کہنا ہے کہ وائرس گردوں کے اندر خلیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات تو پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ کورونا وائرس مریض کے گردوں کو متاثر کرسکتا ہے مگر جسم کے اس عضو پر کیا اثرات ہوتے ہیں یہ اب تک واضح نہیں تھا۔

ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات دریافت کی گئی ہے کہ درحقیقت کوویڈ 19 کا مرض براہ راست گردوں کے اندر خلیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں گردوں میں زخم ہوسکتے ہیں۔

جرمنی کے آر ڈبلیو ٹی ایچ یونیکلنک ایشکن اور نیدرلینڈز کی راڈبوڈ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی مشترکہ تحقیق کووڈ 19 کے نتیجے میں آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں کے گردوں کے ٹشوز کا موازنہ کووڈ سے محفوظ مگر پھیپھڑوں کی کسی بیماری کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں اور صحت مندافراد سے کیا گیا۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ کوویڈ19 کے مریضوں کے گردوں کے ٹشوز کو پہنچنے والا نقصان دیگر گروپس سے زیادہ تھا۔ تحقیق کے پہلے مرحلے میں یہ واضح ہوگیا تھا کہ کوویڈ19 سے گردوں کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے بعد محققین نے یہ تعین کرنے کا فیصلہ کیا کہ کورونا وائرس یہ کام کیسے کرتا ہے۔

اس مقصد کے لیے محققین نے چھوٹے مصنوعی گردے تیار کیے اور لیبارٹری میں ان میں گردوں کے مختلف خلیات کا اضافہ کیا گیا مگر مدافعتی خلیات ان میں شامل نہیں تھے۔

اس کے بعد ہر مصنوعی گردے کو کووڈ سے متاثر کیا گیا تاکہ تحقیقی ٹیم مشاہدہ کرسکے کہ کورونا وائرس گردوں کے خلیات پر براہ راست کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔

ایک بار پھر محققین نے گردوں میں زخم اور ان سنگنلز کو دریافت کیا گیا جو اس عمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔نتائج سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ بیماری کے بعد بہت زیادہ ورم یا کوئی اور اثر نہیں بلکہ کورونا وائرس براہ راست کووڈ 19 کے مریضوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ تحقیق کے دوران ہم نے کورونا وائرس سے گردوں کو نقصان پہنچتے دیکھا، متاثرہ مصنوعی گردوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس براہ راست خلیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کام کے ساتھ ہم نے معمے کا وہ ٹکڑا تلاش کرلیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس جسم پر کیسے تباہ کن اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گردوں میں زخم کے طویل المعیاد بنیادوں پر سنگین اثرات مرتب وہسکتے ہیں جس کا سامنا گردوں کو ہونے والی ہر انجری سے ہوسکتا ہے جبکہ گردوں کے افعال پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ کووڈ کے مریضوں کو بھی اس مسئلے کا سامنا ہوسکتاہے اور اس سے ممکنہ وضاحت ہوتی ہے کہ کووڈ کے مریضوں کے گردوں کے افعال متاثر کیوں ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سیل اسٹیم سیل میں شائع ہوئے جس میں کہا گیا ہے کہ طویل المعیاد فالو اپ تحقیق سے اس حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جاسکیں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں