The news is by your side.

Advertisement

کورونا کے شبے میں مسلمان خاندان کو پانچ دن تک بھوکا پیاسا رکھا گیا

بھارت میں کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں سے انسانیت سوز سلوک کیا جانے لگا، مریض کے اہل خانہ کو قرنطینہ کرکے پانچ دن تک بھوکا پیاسا رکھا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع کیمور کے رام گڑھ کے لبیدہاں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ صرف شرمناک ہی نہیں بلکہ بھارتی ضلع کی مقامی انتظامیہ کی لاپرواہی اور بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے رام گڑھ کے رہاٸشی 65 سالہ زین الدین انصاری کو ضلع انتظامیہ نے مقامی لوگوں کی اطلاع پر کورونا مثبت کے محض شک کی بنیاد پر قرنطینہ لے آئی اور ان کے اہل خانہ کو گھر میں ہی قرنطینہ کے نام پر بغیر راشن دیئے مکان کے باہر تالا بند کرکے قید کر دیا گیا۔

پیاس سے ٹرپنے کے باوجود کسی نے بھی ان پر دھیان نہیں دیا، ساتھ میں مقامی رہاٸشی بھی طعنے کے ساتھ زود کوب کرتے رہے۔ پانچ دن بعد جب زین الدین انصاری کی کورونا ٹیسٹ رپورٹ پٹنہ سے منفی آئی تب زین الدین کو بھبھوا قرنطینہ سے چھوڑ دیا گیا اور ان کے قید کیے جانے والے خاندان کو مکان کا تالا کھول کر ضرورت کا سامان دینے کا کہا گیا۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ مقامی رہاٸشیوں نے بھی اس بے گناہ خاندان کو مسلسل زود کوب کیا اور انہیں خاص فرقے سے جوڑا جانے لگا، اس سلسلے میں زین الدین کے بیٹے نفیس نے بتایا کی مقامی لوگوں نے افواہ پھیلا دی کی میرے والد کا رابطہ چین پور کے کورونا متاثرین سے ہے اور والد چین پور گئے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا، نیز بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی کی گئی، انتظامیہ نے کھانے پینے کی کوئی چیز مہیا نہیں کرائی ۔پانچ دنوں تک گھر میں قید رہ کر سوکھی روٹی جو بھی نصیب ہوا کھا کر زندہ رہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں