The news is by your side.

Advertisement

کیا ” ڈیلٹا پلس” ویرینٹ کرونا ویکسین کو چکمہ دے سکتا ہے؟

نئی دہلی: بھارت میں تباہی پھیلانے والے کرونا وائرس کے نئے ویرینٹ” ڈیلٹا پلس” نے ماہرین کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔

بھارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر کے دوران مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ “ڈیلٹا ویرینٹ” ہی تھا جس کے باعث بھارت میں کرونا وبا تیزی سے پھیلی تاہم ماہرین نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اب اس ویرینٹ کی نئی قسم ڈیلٹا پلس (اے وائی 01) تیزی سے پھیل رہی ہے، خوفناک بات یہ ہے کہ ڈیلٹا پلس ویرینٹ ویکسین اور امیونٹی کو بھی چکمہ دے سکتا ہے۔

اس بات کا انکشاف بھارت کے معروف وائرولاجسٹ شاہد جمیل نے کیا، پروفیسر جمیل کا کہنا تھا کہ ایسا اس وجہ سے کہا جارہا ہے کیونکہ ڈیلٹا پلس سے متاثرہ مریض میں وہ تمام علامات ظاہر ہو رہی ہیں جو بنیادی ڈیلٹا ویرینٹ کے مریض میں ظاہر ہوتی تھیں، اس کے علاوہ کے 417این نامی میوٹیشن جو جنوبی افریقا میں دریافت ہوا تھا اس کی بھی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک ویکسین کا “بیٹا ویرینٹ” پر کم اثر ہتا ہے، بیٹا ویرینٹ ویکسین کو چکمہ دینے میں الفا اور ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیز ہے۔

پروفیسر جمیل کا مزید کہنا تھا کہ ابھی اس بات کے مصدقہ ثبوت نہیں ملے کہ ڈیلٹا پلس بہت زیادہ خطرناک ہے یا نہیں؟ کیونکہ ہمارے ملک میں ڈیلٹا پلس ویرینٹ کے کیسز ابھی اتنے زیادہ نہیں ہیں کہ فکر کی جائے، 25000 کیسز کی جانچ کرنے پر ڈیلٹا پلس کے 20 کیسز سامنے آئے، یہ تعداد خوفناک نہیں، مگر اصل تعداد بڑے پیمانے پر کیسز کی جانچ پڑتال کرنے پر ہی معلوم کی جاسکے گی۔

یاد رہے کہ جنوبی افریقا کی حکومت نے ایسٹرازینیکا ویکسین کی کھیپ یہ کہتے ہوئے واپس کردی تھی کہ یہ ویکسین وہاں کے ویرینٹ کے خلاف موثر نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں