The news is by your side.

Advertisement

وبا کے دنوں میں؛ جو میں‌ نے دیکھا، جو میں نے سیکھا!

تحریر: شیر بانو معیز

کرونا کی وبا نے دنیا کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ کئی تاثر غلط ثابت ہوئے جیسے شدید گرمی اس وبا کو ختم کردے گی، فلاں دوا اس کا توڑ ہے، جڑی بوٹی، فلاں درخت کی چھال یا پتے اس وائرس سے نجات دلا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ کرفیو اور لاک ڈاؤن کو ہی اس وبا سے بچنے کا حل بتایا جاتا رہا جب کہ ویکسین کی تیاری اور اس وبا کے خاتمے کی بات بھی حتمی نہیں اور اگر ویکسین تیار ہو بھی جائے تو ایک بات تو طے ہے کہ دنیا کا پہلے جیسی حالت میں واپس آنا ممکن نہیں رہا۔

اب میل جول کے انداز اور دوسرے کئی رویوں میں تبدیلی لانے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ چاہے اسے آپ پسند کریں یا ناپسند۔

پچھلے تین ماہ کے دوران بہ حیثیت صحافی میری پیشہ ورانہ زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ لاک ڈاؤن، قرنطینہ جیسے الفاظ سنے، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا کیوں کہ ڈاکٹروں اور سپاہیوں کی طرح میڈیا ورکر بھی فیلڈ ہی میں رہے، لیکن ان تمام اصطلاحات کی حرارت ضرور محسوس کی یا یوں کہہ لیں کہ ذہن پر اس حوالے سے ایک قسم کا دباؤ ضرور رہا۔

جب کیسز میں اضافہ ہوا تو کئی ساتھی بھی اس وائرس سے متاثر ہوئے، معلوم ہوا کہ جس کے ساتھ کل تک کام کیا ہے وہ آج آئسولیشن میں ہے۔ وائرس سے زیادہ خوف اس بات کا تھا کہ کہیں آپ انجانے میں اپنے گھروالوں کو اس کا شکار نہ کر دیں۔ علاج کی اذیت اور اسپتالوں کی صورتِ حال کورونا سے زیادہ تشویش ناک محسوس ہوئی۔ دفتری ذمہ داریاں انجام دینا ضروری ٹھہرا تو گھر والوں سے دور رہنے کا فیصلہ کیا اور تقریبا ڈیڑھ ماہ سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔

دفتر سے گھر آنے کے بعد خود کو ایک کمرے تک محدود رکھا۔ تین ماہ سے گھر کا پکا ہوا کھانا کھایا ، باقاعدگی سے ماسک کا استعمال کیا، ہاتھ دھونے کی روایت، کم سے کم چیزوں کے ساتھ گھر سے باہر جانا اور آتے ہی چیزوں کو اسٹیرالائز کرنا، کپڑوں کو ڈٹرجنٹ میں ڈال کر فوری دھونا۔ یہ سب معمولی باتیں ہیں لیکن ایسا محسوس ہوا کہ شاید اس نے بہت حد تک محفوظ رکھا ورنہ ایک کمرے سے پانچ کیسز کی صورت میں آپ کا محفوظ رہنا معجزہ ہی ہوسکتا ہے۔

کیا عجب کہ وائرس آج نہیں کل آپ کو متاثر کر دے، لیکن اس وقت یہ افسوس نہ ہوگا کہ احتیاط نہیں کی تھی۔ ایک جملہ جو میں نے اس وبا کے دوران سمجھانے کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا وہ یہی تھا کہ موت تو برحق ہے، لیکن احتیاط نہ کرکے مرنا خود کشی ہے۔ الغرض احیتاط ہر صورت ضروری ہے۔

یہ وبا جہاں کئی ظاہری تبدیلیوں کا سبب بنی ہے، وہیں باطنی تبدیلیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اب ہم ضروری اور غیرضروری سے زیادہ بے حد ضروری پر آگئے ہیں۔ سادگی سے شادیاں، دکھاوے کی دعوتوں، بات بات پر پارٹیوں کا اہتمام نہیں کیا جارہا، گھروں میں عبادات پر زور دیا جارہا ہے، شاپنگ سینٹروں کی بندش سے لوگ مجبورا ہی سہی محدود ہوئے، گویا ان تمام چیزوں کے بغیر بھی زندہ رہا جاسکتا ہے۔

ایک اور اہم بات جو قابلِ غور ہے وہ یہ کہ مجموعی طور پر مایوسی طاری ہے اور سرنگ کہاں ختم ہوگی کسی کو علم نہیں، لیکن سفر سب کا جاری ہے۔

گویا رات کے بعد دن پر ایک کامل یقین ہو اور اس یقین کی راہ کے ہم سب راہی ہیں۔ انفرادی طور پر ہم سب ایسی کیفیت سے گزرے ہوں گے، لیکن پہلی بار ایسا ہوا کہ ہم سب ایک سی کیفیت اور صورتِ حال کا سامنا کررہے ہیں۔ اپنے ساتھ دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اس یقین کے سفر کو جاری رکھنے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ یہ سفر جلد تمام ہو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں