The news is by your side.

Advertisement

سائنس دانوں نے کرونا وائرس کی ایک اور تباہ کن ’صلاحیت‘ کا انکشاف کر دیا

کینیڈا: میرین سائنٹسٹس نے کرونا وائرس کی ایک اور تباہ کن ’صلاحیت‘ کا انکشاف کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس بحری ممالیہ جانوروں کو بھی اپنا شکار بنا سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کینیڈا کی ہیلی فیکس ڈیل ہاؤس یونی ورسٹی میں وہیل، ڈولفن اور سیل جیسے بحری ممالیہ جانوروں میں کو وِڈ 19 کے احتمال پر تحقیق کی گئی ہے، جس کے بعد یہ امر سامنے آیا کہ بحری ممالیہ جانور پانی کے ذریعے کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

بحری حیات کے ماہرین (میرین بائیو لوجسٹس) کا کہنا ہے کہ سمندروں میں آلودہ پانی کی نکاسی کی وجہ سے ممالیہ سمندری جانور کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

جریدے دی ٹوٹل انوائرمنٹ میں شایع ہونے والی تحقیق میں 36 بحری ممالیہ جانوروں کے جینوم کا مشاہدہ کیا گیا اور کم از کم 15 ممالیہ اقسام کو کو وِڈ 19 کا خطرہ لاحق ہونے کا نتیجہ اخذ کیا گیا، جو بلاشبہ فکر انگیز ہے۔

ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بحری ممالیہ جانوروں کے ACE2 نامی پروٹین انزائمز ان میں وبا کا سبب بن سکتے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سمندری جانور انسانوں کے مقابلے میں وبا کے آگے زیادہ بے بس ہیں، کیوں کہ وہ وبا کے خطرے سے آگاہ نہیں ہو پاتے۔

تحقیق کے بعد ماہرین نے وارننگ دی کہ سمندروں میں آلودہ پانی کی نکاسی کے سبب وہیل، ڈولفن اور فوک جیسے ممالیہ کی نسل کو خاتمے کا خطرہ لاحق ہے، واضح رہے کہ اسی تحقیقی ٹیم نے یہ بھی کہا ہے کہ سمندری حیات پہلے بھی مختلف اقسام کے کو وِڈ نائٹین کا شکار ہوتی رہی ہے۔

محققین کے مطابق اس سے قبل کرونا وائرسز ممالیہ جانوروں کے پھیپھڑوں اور جگر کو شدید نقصان پہنچا چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں