The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس ، سعودی حکومت کا ایک اور بڑا فیصلہ

جدہ: سعودی حکومت نے  نجی شعبے سے وابستہ دفاتر بند کردیے اور ملازمین کو 15 دن کی چھُٹیاں دیتے ہوئے گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر تمام نجی کمپنیوں اور اداروں کے دفاتر بند کرتے ہوئے ملازمین کو 15 دن کی چھُٹیاں دے دی گئیں۔

سعودی حکام نے پرائیویٹ سیکٹر کے تمام ملازمین کو گھروں تک ہی محدود رہنے کا حکم جاری کرتے ہوئے نجی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ صرف نہایت ضروری عملے کو دفاتر میں بلایا جائے اور تمام ملازمین  کو ایک دوسرے سے مناسب فاصلے پر بٹھایا جائے۔

مزید پڑھیں : کرونا وائرس: سعودی عرب میں ملازمین گھر سے کام کیسے کریں گے؟

حکام کا کہنا ہے کہ بجلی، پانی اور مواصلات کے شعبوں کے ملازمین بدستور کام کرتے رہیں گے جبکہ کئی شعبوں میں ملازمین کو گھروں پر بیٹھ کر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سعودی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر کسی نجی ادارے میں کام کی جگہ پر ملازمین کی گنتی 50سے زیادہ ہے تو ایسی صورت میں تمام ملازمین میں بخار اور نزلہ زکام کی تشخیص کے لیے اسکینر اور دیگر طبی آلات کو استعمال میں لانا لازمی ہوگا۔

حکام  کے مطابق اگرکسی ملازم یا کارکن میں کرونا وائرس کی مشتبہ علامات پائی جائیں تو ادارہ فوری طور پر اپنی انتظامیہ کو اس بارے میں آگاہ کرنے کا پابند ہوگا۔

دوسری جانب وزارت ہیومن ریسورسز کا کہنا ہے کہ  سعودی عرب نے نجی شعبے سے وابستہ دفاتر بند کردیے  اور ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

وزارت ہیومن ریسورسز کے مطابق کمپنیوں کے ملازمین کو دفاتر آنے سے 15 دنوں کے لیے استثنیٰ دیا جائے گا جبکہ بنیادی شعبوں میں کام کرنیوالی کمپنیاں آن لائن خدمات کوفروغ دیں گی۔

خیال رہے سعودی عرب میں کرونا وائرس کے مزید 38 مریض سامنے آنے کے بعد مریضوں کی کل تعداد 171 ہوگئی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں