The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین، فرانسیسی کمپنی کے بیان پر ہنگامہ

پیرس: فرانسیسی دوا ساز کمپنی سنوفی کے سربراہ نے کرونا ویکسین پر سب سے پہلا حق امریکا کا قرار دے دیا، کمپنی کے بیان پر فرانسیسی حکومت نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی دوا ساز کمپنی سنوفی کے سربراہ پال ہڈسن نے گزشتہ دنوں بلوم برگ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کرونا وائرس کی کامیاب ویکسین کی تیاری کی صورت میں ابتدائی آرڈرز امریکا کو فراہم کیے جائیں گے کیونکہ سب سے پہلے اس نے کمپنی کو ویکسین کی تیاری کے لیے فنڈنگ کی۔

فرانس کے وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی کامیاب ویکسین کو برابری کی بنیاد پر ہی تقسیم کیا جائے گا اور اس حوالے سے بحث کی گنجائش موجود نہیں ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ ویکسین یا دوا کو عالمی حیثیت حاصل ہونی چاہئے، دوا کو مارکیٹ کی قوتوں کے تابع نہیں ہونا چاہئے، سب کو ویکسین تک رسائی نہ ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دوا ساز کمپنیوں کے عہدیداران سے ملاقات کروں گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ویکسین کی تقسیم دنیا میں رائج غیرمنصفانہ نظام کو بے نقاب کرے گی۔

علاوہ ازیں سنوفی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین سیرگ وینبرگ نے کہا کہ کسی بھی ملک کو ویکسین کے معاملے پر ترجیح نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ کئی ممالک نے کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری اور منصفانہ تقسیم کے لیے 8 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے تاہم امریکا نے ابھی تک حوالے سے کسی بھی فنڈنگ کا نہ تو وعدہ کیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ظاہرکیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرلی جائے گی تاہم کئی ماہرین ان کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں