The news is by your side.

Advertisement

کورونا کے مریضوں پر ہائیڈروکلوروکین کا استعمال ، ڈبلیوایچ او نے بڑا فیصلہ کرلیا

نیویارک : عالمی ادارے صحت (ڈبلیوایچ او ) نے کورونا کے مریضوں پر ملیریا سے بچاؤ کی دوا ہائیڈروکلوروکین کےدوبارہ تجربے کا فیصلہ کرلیا ، اموات میں اضافے کے خدشے،دل کی دھڑکن میں غیرمعمولی تبدیلی پر تجربہ معطل کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے جائزے کی بنیاد پر کوویڈ 19 مریضوں پر ملیریا ڈرگ ہائیڈروکلوروکین کا کلینیکل ٹرائل جاری رہے گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ ماہرین اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے ہیں اور سفارش کی ہے کہ “آزمائشی پروٹوکول میں ترمیم کرنے کی کوئی وجوہ نہیں ہیں۔”

انہوں نے کہا ، “ایگزیکٹو گروپ کی جانب سے کورونا کیخلاف تمام دواؤں کا ٹرائل جاری رکھنے کی سفارش موصول ہوئی ہے ، جس میں ہائیڈروکلوروکین بھی شامل ہیں۔”

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے ویکسین بنانے والی چار کمپنیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ٹرائل کا سلسلہ شروع کیا، جس کے تحت مذکورہ کمپنیوں کے لیے اسپانسرز اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔

یاد رہے گذشتہ ماہ عالمی ادارہِ صحت نےحفاظتی خدشات کے پیشِ نظر کورونا کے علاج کیلئے ہائیڈروکسی کلوروکوئن کےتجربات معطل کردئیے تھے۔

سربراہ ٹیڈروس کا کہنا تھا یہ پابندی عارضی ہے،دواکےتمام پہلووں کا جائزہ لے رہےہیں، مختلف ملکوں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے دواوں پرکام کرنیوالی تنظیم کی سفارش پرپابندی لگائی گئی ہے۔

ڈاکٹر ٹیڈروس نے برطانوی جریدے دی لینسیٹ میں جمعے کے روز شائع ہونے والے نتائج کا حوالہ دیا تھا، جس میں دکھایا گیا تھا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن کوویڈ 19 مریضوں کی مدد نہیں کرتی بلکہ اس سے اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔

خیال رہے برطانوی جریدے دی لینسیٹ میں جمعہ کو شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تقریبا ایک لاکھ کورونا وائرس کے مریضوں کے مطالعے میں اینٹی وائرل دوائیوں ہائیڈروکسی کلورو کوئن کے ساتھ ان کا علاج کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے بلکہ مریضوں کی اموات کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سے قبل امریکہ میں ہونے والی حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا تھا کہ کرونا وائرس مریض کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ملیریا کی ادویات بے اثر اور اموات میں اضافے کا باعث ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں