The news is by your side.

Advertisement

کورونا کا آسان شکار کون؟ سائنسی تحقیق نے ہلچل مچا دی

پولینڈ میں سائنسدانوں نے ایک ایسے جین کا پتہ لگایا ہے جو کورونا وائرس سے شدید بیمار ہونےکا خطرہ دو گنا بڑھا دیتا ہے

کورونا کے نمودار ہونے سے اب تک اس وائرس کے حوالے سے ہونے والی تحقیق میں روز نئے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں جس سے اس وائرس کے پھیلاؤ کو سمجھنے اور تدارک میں مدد بھی مل رہی ہے۔

حال ہی میں پولینڈ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک ایسے جین کا پتہ لگایا ہے جو کورونا وائرس سے شدید بیمار ہونے کا خطرہ عام حالات سے2 گنا زیادہ بڑھا دیتا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ اس تحقیق کے نتیجے کورونا وائرس کا آسان شکار ہونے والے انسانوں کی شناخت ممکن ہوسکے گی۔

اس حوالے سے پولینڈ کا سرکاری سطح پر ایک بیان سامنے آیا ہے۔

پولینڈ کے وزیر صحت ایڈم نیڈزیلسکی نے اعلان کیا ہے کہ ڈیڑھ سال کی محنت کے بعد ان لوگوں کے جین کی شناخت ممکن ہوگئی ہے جو کورونا وائرس سے شدید بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

نیڈزیلسکی کے مطابق اس طرح ان لوگوں کی شناخت ہوسکے گی جو کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

بیالسٹاک میڈیکل یونیورسٹی کے محققین نے اپنی تحقیق میں عمر، وزن، جنس کے بعد زیربحث جین کو چوتھا سب سے اہم عنصر قرار دیا ہے جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کورونا سے کتنے لوگ متاثر ہوں گے۔

محققین کے مطابق اس جین کی دریافت سب سے زیادہ خطرے کا شکار افراد کی ویکسینیشن اور انتہائی نگہداشت کے اختیارات کا جائزہ لینے کی جانب راغب کرسکتی ہے۔

اس پروجیکٹ کے ذمے دار پروفیسر مارسن مونیئسکو نے بتایا کہ یہ جین پولینڈ کی 14 فیصد آبادی، یورپ کی 8 سے 9اور ہندوستان کی 27 فیصد آبادی میں پایا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں