The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین لگوانے والا رضاکار ’نامعلوم بیماری‘ میں مبتلا

نیویارک: کرونا ویکسین بنانے والی امریکی کمپنی نے رضاکار کو نامعلوم بیماری لاحق ہونے کے بعد ویکسین کے ٹرائل فوری طور پر روکنے کا اعلان کردیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کی دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن کی جانب سے تیار کی جانے والی کرونا ویکسین کے ٹرائل تیسرے مرحلے میں تھے۔کمپنی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ویکسین کو اب تک 60 ہزار رضاکاروں پر آزمایا جاچکا تھا۔

جن رضاکاروں پر ویکسین کی آزمائش کی گئی اُن میں سے ایک کی طبیعت نہ صرف ناساز ہوئی بلکہ ڈاکٹرز  کو بھی اُن کی بیماری کو پکڑنے میں ناکام رہے۔

کمپنی کی جانب سے پیر کے روز جاری ہونے اعلامیے میں تصدیق کی گئی کہ ایک رضاکار ’نامعلوم یا ناقابل بیان بیماری‘ میں مبتلا ہوگیا۔

مزید پڑھیں: کیا کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ویکسین کافی ہوگی؟

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس کرنسی نوٹ اور موبائل فون اسکرین پر ایک ماہ تک زندہ رہتا ہے، تحقیق

کمپنی کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ رضاکار کس بیماری میں مبتلا ہوا، البتہ اس بات کا اعلان کیا گیا کہ اب ویکسین کا ٹرائل غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جانسن اینڈ جانسن کمپنی نے امریکی حکومت کے اشتراک سے کرونا ویکسین تیار کی، جس کو دو مراحل پر آزمایا بھی جاچکا ہے، اب تیسرے مرحلے کے ٹرائلز جاری تھے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ستمبر میں آسٹرازینکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی مشترکہ کاوش سے تیار کی جانے والی ویکسین کے بھی منفی اثرات سامنے آئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں