The news is by your side.

Advertisement

جوہرٹاؤن دھماکا: حملے سے قبل پولیس کی جانب سے ممکنہ گاڑی کی تلاشی لئے جانے کا انکشاف

لاہور : جوہر ٹاؤن دھماکے میں استعمال ہونے والی ممکنہ گاڑی کی پولیس کی جانب سے تلاشی لئے جانے کا انکشاف سامنے آیا تاہم اہلکاربارود سے بھری گاڑی کو روکنے کے باوجود مواد کا سراغ نہ لگا سکے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے جوہرٹاؤن دھماکے کی تحقیقات جاری ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی ممکنہ گاڑی براستہ موٹر وے لاہورمیں داخل ہوئی، 9بجکر40منٹ پرگاڑی کو بابو صابوناکے پر سیکیورٹی اہلکار نے تلاشی کے لیے روکا اور دستاویزات کی جانچ کے بعد گاڑی کوروانہ کردیا گیا۔

ذرائع نے کہا کہ ناکے پر اہلکاربارود سے بھری گاڑی کو روکنے کے باوجود مواد کا سراغ نہ لگا سکے ، سی ٹی ڈی نےبابوصابوناکے پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کوشامل تفتیش کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گاڑی پیٹر ڈیوڈ پال کےزیراستعمال رہی ہے، ڈیوڈ پیٹر پال کو علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جہازکےاندرسے حراست میں لیا گیا، ڈیوڈ پیٹر دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہوسکتا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈیوڈپیٹرکراچی کارہائشی ہے، تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

گذشتہ روز جوہرٹاؤن دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا سراغ لگا لیا گیا تھا ، دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی11سال قبل گوجرانوالہ سےچھینی گئی تھی۔ گاڑی ایل ای بی9928چھیننے کا مقدمہ تھانہ کینٹ گوجرانوالہ میں درج ہے، پولیس نےگاڑی کا مقدمہ حافظ آباد کے رہائشی شکیل کے بیان پر درج کیا تھا۔

گاڑی کے مالک شکیل نے ڈرائیور منظور کو دوست کو گاڑی دینے کے لیے بھیجا تھا ، جہاں 29نومبر2010کو صبح پونے10بجے3ڈاکوؤں نے ڈرائیور سے گاڑی چھین لی تھی۔

واضح رہے کہ جوہر ٹاؤن میں دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 24 افراد زخمی ہوگئے تھے، زخمیوں میں خواتین سمیت دو بچے بھی شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں