منگل, جون 18, 2024
اشتہار

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ یا شارٹ ٹرم کڈنیپنگ فورس؟ ایک شرمناک کہانی جس نے ڈپارٹمنٹ کے در و دیوار ہلا دیے

اشتہار

حیرت انگیز

ٹکے پر بکنے والی کالی بھیڑوں نے سندھ پولیس کی شان سی ٹی ڈی کی عزت داؤ پر لگا دی ہے، صرف ایک لاکھ روپے کے عوض 3 افسران معطل ہو گئے، اور 3 گرفتاریاں ہوئیں جب کہ ایک فرار ہو گیا، اور رینجرز لانس نائیک نے سی ٹی ڈی میں ہی سی ٹی ڈی افسران و اہلکاروں کے خلاف اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج کروا دیا ہے، جس پر محکمے کی ساکھ بنانے کے لیے دن رات ایک کرنے والے افسران سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔

ملک دشمن عناصر کے لیے دہشت کی علامت

ایک زمانہ تھا جب سی ٹی ڈی کا نام دہشت گردوں، ملک دشمن عناصر اور سنگین جرائم میں ملوث اور مطلوب عناصر کے لیے دہشت بنا ہوا تھا، سی ٹی ڈی میں کارکردگی کی بنیاد پر اپنا اور محکمے کا نام بنانے میں کئی افسران و اہلکار شامل ہیں، جن میں کئی اس دنیا میں موجود ہیں تو کئی اس دنیا سے جا چکے ہیں، لیکن ایسی صورت حال کبھی ماضی میں پیش نہیں آئی کہ ایک لاکھ روپے کے لیے ایک ایس پی، ایک ڈی ایس پی، ایک ایس ایچ او کو معطل کیا گیا ہو، اور تین اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہو۔

- Advertisement -

شارٹ ٹرم کڈنیپنگ

ماضی میں بھی کئی مرتبہ لوکل پولیس ہو، سی ٹی ڈی ہو، یا اسپیشلائزڈ یونٹس؛ مختلف وقتوں میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے کیسز بھی سامنے آتے رہے ہیں، حتیٰ کہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے اپنی ریکوری کے لیے تاجر کو گھر تک سے اٹھوالیا۔ سی ٹی ڈی میں رفاقت شاہ جیسے نام بھی سامنے آئے اور طاہر جیسے عناصر بھی محکمے کی آڑ میں کالے کام کرتے رہے، سی ٹی ڈی میں معطل ہونا، برطرف ہونا اور پھر واپس آ جانا بھی ایک معمول سا بن چکا ہے۔

درخشاں کارکردگی والے پولیس افسر

آئی جی سی ٹی ڈی آصف اعجاز شیخ کو سندھ سیف سٹی منصوبے پر اہم ٹاسک بھی سونپا گیا، جس پر وہ کام کرتے نظر آتے ہیں جب کہ سی ٹی ڈی میں کام کرتے ہوئے قومی اعزازات حاصل کرنے والے افسر راجہ عمر خطاب کو بھی ہمیشہ ملکی مفاد میں اور اچھے بڑے کیسز پر کام کرتے دیکھا۔

سانحہ صفورا ہو یا انصارالشریعہ جیسے مشکل کیس، راجہ عمر خطاب نے یہ بات ثابت کی کہ وہ تحقیقاتی ادارے کے ایک ماہر افسر ہیں، جو ایک چھوٹے سے سراغ کے ذریعے بڑے سے بڑا کیس حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایک مرتبہ پھر کالی بھیڑوں نے بڑے گیم کے چکر میں بڑا بلنڈر کر دیا ہے۔

کالی بھیڑوں کا بڑا بلنڈر

سی ٹی ڈی سول لائنز پر سندھ رینجرز کی جانب سے چھاپے کے بعد رینجرز لانس نائیک وحید کی مدعیت میں سی ٹی ڈی میں ہی سی ٹی ڈی افسران و اہلکاروں اور پرائیویٹ شخص پر اغوا برائے تاوان کی دفعہ 365 اے کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔

ایس پی آپریشن ون سی ٹی ڈی عمران شوکت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے

مدعی وحید کے مطابق اس کا بھانجا علیان 19 مئی کو عراق سے کراچی پہنچا تھا، جو دوپہر 2 بجے پنجاب جانے کے لیے سہراب گوٹھ اڈے پر جا رہا تھا، کہ شاہراہ فیصل پر وائرلیس گیٹ پر سرکاری موبائل اور ڈبل کیبن میں سادہ لباس مسلح افراد نے روکا اور بھانجے کو قیمتی سامان سمیت اتار کر سرکاری موبائل میں سوار کیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

معطل ہونے والے ایس ایچ او امداد خواجہ، اور ڈی ایس پی سہیل سلہری

مدعی کے مطابق بھانجے سے رابطہ نہ ہونے پر تلاش شروع کی گئی تو اس دوران 21 تاریخ کو بھانجے کے موبائل ہی سے نامعلوم شخص نے فون کیا اور کہا کہ تمھارا بھانجا علیان سی ٹی ڈی کی حراست میں ہے اور چھڑانا چاہتے ہو تو 15 لاکھ تاوان دو، تاہم منت سماجت کے بعد فون کرنے والا آخر 1 لاکھ روپے پر راضی ہو گیا۔

رینجرز پارٹی سی ٹی ڈی میں داخل

وحید کے مطابق اس نے اپنے ڈپارٹمنٹ کے افسران کو اطلاع دی اور رقم لے کر شام 4 بجے سی ٹی ڈی سول لائنز کراچی کے قریب پہنچا، جہاں موجود شخص نے رقم طلب کی اور موبائل فون پر بھانجے کو سامان سمیت باہر لانے کا کہا، جسے 3 افراد سامان سمیت لائے۔ مدعی سے ایک لاکھ روپے لے کر اس کے بھانجے کو سامان سمیت حوالے کر دیا گیا، اسی دوران رینجرز پارٹی سی ٹی ڈی کے اندر داخل ہو گئی۔

آئی جی سندھ کو نوٹس لینا پڑا

اغوا میں ملوث پولیس اہلکاروں میں سب انسپکٹر طاہر تنویر، اے ایس آئی شاہد حسین، پولیس کانسٹیبل عمر خان اور پرائیوٹ شخص اسامہ شامل تھے، لیکن کارروائی کے دوران پرائیوٹ شخص اسامہ موقع سے بھاگ گیا، واقعے کے بعد آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جو کہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی بھی ہیں، ان کی جانب سے سخت نوٹس لیا گیا۔

آئی جی کے حکم پر ایس پی سی ٹی ڈی آپریشن ون عمران شوکت کو سی پی او رپورٹ کرنے، جب کہ ڈی ایس پی سہیل اختر سہلری کو معطل کر دیا گیا، مبینہ طور پر ایس ایچ او سی ٹی ڈی امداد خواجہ کو بچانے کے لیے انھیں صرف معطل کیا گیا۔

شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے اس واقعے کا نتیجہ؟

مدعی وحید کے بیان کے مطابق یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس بھونڈے طریقے سے شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کی یہ واردات کی گئی، تاوان طلب کیا گیا اور اپنے دفتر کے دروازے ہی پر رقم اور مغوی کا لین دین کیا گیا۔ اگر یہ کارروائی کامیاب بھی رہتی تو شاید فی شخص 25 ہزار روپے تقسیم ہونے تھے۔

چناں چہ، اس سارے عمل اور اس کے بعد ہونے والے ایکشن کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ سی ٹی ڈی کو عمر شاہد حامد جیسے افسران کی سخت ضرورت ہے، ملک میں جس طرح کی صورت حال ہے ایسے محکموں میں اندرونی طور پر چیک اینڈ بیلنس کا فوری سسٹم نافذ کرنا پڑے گا، تاکہ بعد میں ہونے والی رسوائی سے بچنے کے لیے اندرونی طور پر ہی ایسے عناصر کی پہلے ہی سے سرکوبی کی جائے۔

Comments

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز کے کرائم رپورٹر ہیں

مزید خبریں