سوشل میڈیا پرشدت پسندی‘ سائبرکرائم ایکٹ کے اہم نکات -
The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا پرشدت پسندی‘ سائبرکرائم ایکٹ کے اہم نکات

شدت پسندی کی روک تھام‘ پاکستان کے قوانین کیا کہتے ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے آج اعلان کیا ہے کہ سوشل میڈیا  پر نفرت آمیز مواد کی روک تھام کے لیے  طریقہ کار وضع کرنے کا اعلان کیا ہے، اس سلسلے میں دوسال قبل پاکستان میں سائبر کرایکٹ بھی منظور ہوچکا ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا آہستہ آہستہ مین اسٹریم میڈیا کی جگہ لے رہا ہے لہذا اسے ریگولیٹ کرنا وقت کی اہم ترین ضرور ہے، کسی کو بھی نفرت پھیلانے اور ریاست کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شدت پسندی تو یہ ہے کہ دوسرے کواس کی رائے کے اظہار موقع نہ دیاجائے، کسی پر اپنی رائے مسلط کرنے سے شدت پسندی پھیلتی ہے، کچھ لوگ سمجھتے ہیں، ان کے اظہار رائے کے حق کی کوئی حد نہیں ،ایسا نہیں ہے، ہمارے ہاں اس حوالے سے قوانین موجود ہیں، غیر روایتی تنازعات سے ہم نکل آئے ہیں، ہم نے ان قوانین کو نافذ کرناہے۔

کیونکہ سائبر کرائم ایکٹ اس سلسلے میں مرکزی قانون تصور ہوگا لہذا ضروری ہے کہ عوام اس سلسلے میں قانون کو اچھی طرح جان لیں، تاکہ کسی مشکل سے بچ سکیں ۔ یاد رکھیں قانون سے ناواقف ہونا، جرم کا عذر نہیں ہوسکتا ۔

سائبر کرائم ایکٹ کے اہم نکات


1) کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

2) کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

3) کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

4) اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلااجازت رسائی کی صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

5) اہم ڈیٹا کو بلااجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

6) اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

7) جرم اورنفرت انگیز تقاریر کی تائید و تشہیر پر 5 سال قیدیا 1کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

سائبر دہشت گردی:کو ئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے ، اسے 14سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

9) الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں

10) الیکٹرونک فراڈ پر 2سال قید یا 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

11) کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50ہزر جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

12) کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

13) سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

14) کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3سال قید یا 10 لاکھ جرماہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

15)بلااجازت نقب زنی( جیسے کمیونی کیشن وغیرہ میں) پر 2سال قیدیا 5لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

16) کسی کی شہرت کے خلاف جرائم:کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

17)کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

18) وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2سال قید یا 10لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

19) آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا رونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

20)سپیمنگ پر پہلی دفعہ 50ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

21) سپوفنگ پر 3سال قید یا 5لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

یاد رکھیں ، بعض اوقات ہم ایسے افعال انجام دے رہے ہوتے ہیں جو ہماری نظر میں معمولی لیکن قانون کی نظر میں جرم ہوتے ہیں لہذا یہ معلومات اپنے دوستوں، رشتے داروں اور چاہنے والوں سے شیئر کریں تاکہ جانے انجانے میں قانون کی خلاف ورزی سے بچا جاسکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں